مہاجر ٹرانس افراد کو سرکاری دستاویزات میں نام اور جنس کی تبدیلی کی اجازت ہونی چاہیے،پلاتافورما ٹرانس کی کانگریس میں تجویز پیش

Screenshot

Screenshot

پلاٹافورما ٹرانس کی صدر مار کامبرولے نے بدھ کے روز ہسپانوی کانگریس میں ایک تجویز پیش کی، جس کا مقصد 2023 میں منظور ہونے والے ٹرانس قانون کے ایک اہم حصے کو عملی شکل دینا ہے، جو اب تک نافذ نہیں ہو سکا۔ یہ معاملہ خاص طور پر ان غیر ملکی ٹرانس افراد سے متعلق ہے، جن کی تعداد 60 ہزار سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

کامبرولے نے کانگریس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون پر عملدرآمد میں تین سال کی تاخیر ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد کو بنیادی حقوق کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ قانونی و انتظامی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

اس مسئلے کے حل کے لیے تنظیم نے ایک تفصیلی قانونی مسودہ تیار کیا ہے، جس میں میڈرڈ کی کمپلوتنسے یونیورسٹی کے ماہرینِ قانون نے بھی تعاون کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف تنقید نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور قابلِ عمل تجویز ہے، جو حکومت کے کام کو آسان بنا سکتی ہے۔

ٹرانس قانون (قانون نمبر 4/2023) کے مطابق، ایسے غیر ملکی افراد کو اپنے سرکاری دستاویزات میں نام اور جنس کی تبدیلی کی اجازت ہونی چاہیے، جو اپنے آبائی ملک میں یہ تبدیلی نہیں کروا سکتے۔ اگرچہ اس قانون کو صنفی خودمختاری کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا، لیکن حقیقت میں بہت سے مہاجر اور پناہ گزین ٹرانس افراد اب بھی اپنی اصل شناخت سے محروم ہیں۔

پیرُو سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ ٹوبیاس کونزا نے بتایا کہ وہ دو بار اپنی دستاویزات درست کرانے کی کوشش کر چکے ہیں، مگر ہر بار درخواست مسترد کر دی گئی۔ ان کے مطابق، اس صورتحال نے ان کی زندگی کو روک کر رکھ دیا ہے۔

پلاٹافورما ٹرانس نے حکومت کو خط بھی ارسال کیا ہے اور مختلف پارلیمانی جماعتوں (پی ایس او ای، سومار، پوڈیموس، ای آر سی، بی این جی، بلدو) سے ملاقاتیں بھی کی ہیں، جنہوں نے اس تجویز کو آگے بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔

اس مجوزہ ضابطے کے تحت ایسے افراد کو اسپین میں اپنی شناخت درست کرانے کی اجازت دی جائے گی، جن کے لیے یہ عمل ان کے ملک میں ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک میں کی گئی شناختی تبدیلی کو بھی تسلیم کیا جائے گا، پناہ گزینوں کے لیے خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے گا، اور سرکاری اداروں میں ڈیٹا کی خودکار ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا۔

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے مطابق، ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر فرد کی صنفی شناخت کو قانونی طور پر تسلیم کریں، چاہے وہ غیر ملکی یا پناہ گزین ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لیے ہسپانوی ایل جی بی ٹی آئی تنظیموں اور محتسب (Defensor del Pueblo) نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ اس قانون کو فوری طور پر عملی جامہ پہنایا جائے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے