“ہم اپنے شہریوں کے ساتھ بدسلوکی برداشت نہیں کریں گے”ہسپانوی وزیراعظم پیدروسانچز کا اسرائیلی وزیر کو سخت ردعمل
Screenshot
میڈرڈ: اسپین کے وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز نے اسرائیل کے وزیر بن گویر کی جانب سے غزہ کے حق میں جانے والی بین الاقوامی فلوٹیلا کے کارکنوں کی “تذلیل” پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیرِ حراست کارکنوں کو گھٹنوں کے بل بٹھا کر اور ہتھکڑیاں لگا کر ان کا مذاق اڑانا “ناقابلِ قبول” ہے۔
سانچیز نے کہا، “ہم کسی کو بھی اپنے شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کی اجازت نہیں دیں گے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ اس اسرائیلی وزیر کے اسپین میں داخلے پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے، اور اب یورپی سطح پر بھی اسی نوعیت کی پابندیاں لگانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
اس معاملے پر اسپین کے وزیرِ خارجہ خوسے مانوئل الباریس نے بھی شدید ردعمل دیا اور اسرائیل سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اسرائیلی سفارتخانے کی قائم مقام سربراہ کو طلب کر کے اس “غیر انسانی اور قابلِ مذمت” سلوک پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔
الباریس کے مطابق، غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والی “گلوبل سمود” فلوٹیلا کے کارکنوں، جن میں 44 ہسپانوی شہری بھی شامل ہیں، کو حراست میں لے کر اسرائیلی جیل منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس سلوک کو “وحشیانہ، غیر مہذب اور غیر انسانی” قرار دیا۔
دوسری جانب نیدرلینڈز نے بھی اسی واقعے پر اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا اور اس سلوک کو انسانی وقار کے خلاف قرار دیا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی سمندری حدود میں ایسی فلوٹیلا کو داخل ہونے سے روکنے کا حق حاصل ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بن گویر کا رویہ اسرائیلی اقدار کے مطابق نہیں تھا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ زیرِ حراست کارکنوں کو جلد از جلد ملک بدر کیا جائے۔
اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون ساعر نے بھی بن گویر کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے، اور یہ کہ “آپ اسرائیل کا چہرہ نہیں ہیں۔”