فلوٹیلا کے گرفتار کارکنوں کی تذلیل،اسرائیلی وزیر بن گویرنے ویڈیو شئیر کردی

Screenshot

Screenshot

انتہا پسند اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر نے غزہ جانے والی فلوٹیلا کے گرفتار کارکنوں پر سخت الفاظ میں تنقید کی، جبکہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے وزیر کے اس رویے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ اس بحری مشن میں شامل 430 کارکنوں کو حراست میں لے کر اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق، پیر کے روز قبرص کے ساحل کے قریب اسرائیلی بحریہ نے “گلوبل سومود فلوٹیلا” کو روک کر اس کے تمام 430 کارکنوں کو اسرائیلی جہازوں کے ذریعے اسرائیل منتقل کیا، جہاں وہ اپنے قونصلر نمائندوں سے ملاقات کر سکیں گے۔

ماضی کی طرح اس بار بھی کارکنوں کو اشدود بندرگاہ لے جایا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز، جو مبینہ طور پر خود بن گویر نے شیئر کیں، میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی اہلکار کارکنوں کو مار رہے ہیں اور ان کی تذلیل کر رہے ہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے کارکنوں کو بار بار “دہشت گردوں کے حامی” قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ “نشے میں یا منشیات کے زیرِ اثر” تھے۔ ایک اور ویڈیو میں کارکنوں کو گھٹنوں کے بل، ہاتھ پیچھے باندھے اور چہرہ زمین پر رکھے دکھایا گیا، جبکہ پس منظر میں اسرائیلی قومی ترانہ بج رہا تھا۔

فلوٹیلا، جس میں تقریباً پچاس کشتیاں شامل تھیں، نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی افواج ان کے جہازوں پر چڑھائی کر رہی ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے اس کارروائی کو “غیر قانونی اور پرتشدد” قرار دیتے ہوئے کارکنوں کی فوری رہائی اور غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ ایک سال کے دوران غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی تیسری کوشش تھی۔ یہ ناکہ بندی اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد مزید سخت ہو گئی، جس کے باعث غزہ شدید قلت اور تباہی کا شکار ہے۔

نیتن یاہو نے جہازوں کو روکنے کی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے “بدنیتی پر مبنی منصوبہ” قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کے وزیر کا رویہ “اسرائیلی اقدار اور اصولوں کے مطابق نہیں”۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ کارکنوں کو جلد از جلد ملک بدر کیا جائے۔

ادھر اسپین کے وزیرِ خارجہ خوسے مانوئل الباریس نے اس رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “غیر انسانی، توہین آمیز اور ناقابلِ قبول” قرار دیا، اور بتایا کہ فلوٹیلا میں 44 ہسپانوی شہری بھی شامل تھے۔ انہوں نے اسرائیلی سفارتی نمائندے کو طلب کر کے فوری رہائی اور معافی کا مطالبہ کیا۔

اسی دوران فلوٹیلا کے منتظمین نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فوج نے دو کشتیوں پر فائرنگ بھی کی، جس کا منظر ایک ترک کارکن عمر اصلان کی لائیو ویڈیو میں ریکارڈ ہوا۔ تاہم اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے