پیرس میں 100 سے زائد تعلیمی اداروں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کی تحقیقات

Screenshot

Screenshot

پیرس کی پراسیکیوشن نے 100 سے زائد تعلیمی اداروں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ سال 2026 میں اب تک اسکول اور غیر نصابی سرگرمیوں سے وابستہ 78 ملازمین کو معطل کیا جا چکا ہے، جن میں سے 31 پر جنسی نوعیت کے الزامات ہیں۔

گزشتہ ایک سال سے پیرس کے سرکاری اسکولوں کے والدین کے درمیان شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر اس وقت کو خطرناک سمجھا جا رہا ہے جب اسکول کی کلاسیں ختم ہوتی ہیں اور بچے غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اس دوران درجنوں جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

پیرس کے کسی بھی علاقے کو اب ان واقعات سے محفوظ نہیں سمجھا جا رہا۔ پراسیکیوٹر لور بیکو نے اعلان کیا ہے کہ 84 نرسری اسکولوں، تقریباً 20 پرائمری اسکولوں اور کئی ڈے کیئر مراکز میں تحقیقات جاری ہیں۔ ان کے مطابق کئی کیسز ابھی بھی زیرِ التوا ہیں اور یہ ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔

رواں سال کے آغاز سے اب تک 78 ملازمین کو معطل کیا گیا ہے، جبکہ 2025 میں بھی 46 افراد کو اسی نوعیت کے الزامات پر معطل کیا گیا تھا۔ اب تک تین باقاعدہ عدالتی تحقیقات شروع ہو چکی ہیں اور پانچ افراد کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے، جبکہ ایک شخص زیرِ حراست ہے۔

سابق میئر این ہیدالگو کی انتظامیہ کو ان معاملات کو سنجیدگی سے نہ لینے پر شدید تنقید کا سامنا رہا۔ نئے میئر ایمانویل گریگوار نے اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے 20 ملین یورو کا منصوبہ پیش کیا ہے اور والدین کی شمولیت سے ایک عوامی مشاورتی عمل بھی شروع کیا ہے۔

اس منصوبے کا مقصد تعلیمی اور غیر نصابی اوقات کو بہتر انداز میں منظم کرنا ہے تاکہ بچوں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ تاہم، بہت سے والدین اس سے مطمئن نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اعتماد بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق مسئلے کی ایک بڑی وجہ غیر نصابی سرگرمیوں کے اوقات کار کا غیر منظم ہونا اور کم تنخواہیں ہیں، جس کی وجہ سے عملے میں تسلسل نہیں رہتا اور بچوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم نہیں ہو پاتا۔

کچھ حلقوں میں یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ تعلیمی ہفتہ دوبارہ چار دنوں پر مشتمل کر دیا جائے تاکہ نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

دوسری جانب #MeTooÉcole جیسی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھاری بجٹ کے باوجود اسکولوں میں جنسی زیادتی، ہراسانی اور بدسلوکی کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں، جو حکام کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔

میئر گریگوار نے کہا کہ تحقیقات میں تیزی آئی ہے اور یہ پیش رفت قابلِ اطمینان ہے، لیکن والدین کے درمیان عدم اعتماد کی فضا اب بھی برقرار ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے