ایران جنگ کے باعث اسپین میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا، قیمتوں میں تیزی سے اضافہ

Screenshot

Screenshot

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے بعد 18 مئی کو اسپین میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اسپین کے معروف اخبار El Periódico کے مطابق، 28 فروری کو اس تنازع کے آغاز کے بعد سے ایندھن کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ ایران کے وسیع تیل ذخائر اور آبنائے ہرمز پر اس کی اسٹریٹجک گرفت کے باعث عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو رہا ہے، جس کے اثرات اسپین سمیت دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اگرچہ اسپین براہِ راست ایران سے تیل درآمد نہیں کرتا، لیکن برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے مقامی مارکیٹ بھی متاثر ہو رہی ہے، اور آنے والے ہفتوں میں صارفین کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

آج کی قیمتیں (18 مئی) پیٹرول کی اوسط قیمت 1.557 یورو فی لیٹر ہے، جو گزشتہ دن کے مقابلے میں 0.004 یورو زیادہ ہے۔ جنگ سے پہلے یہی قیمت تقریباً 1.475 یورو فی لیٹر تھی۔

ڈیزل کی اوسط قیمت 1.689 یورو فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جو 0.003 یورو اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یاد رہے کہ ڈیزل خاص طور پر مال برداری اور پیشہ ورانہ شعبوں کے لیے نہایت اہم ایندھن ہے۔

ماہرین کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ہول سیل لاگت بڑھنے کی وجہ سے یہ بوجھ اب صارفین تک منتقل ہو رہا ہے۔

 آبنائے ہرمز کے قریب میزائل حملوں اور بحری جہازوں پر حملوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ یہ اہم سمندری راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی کا ذریعہ ہے۔ اس کی بندش یا خلل کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، کئی بحری جہاز رک گئے، اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہو گیا۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ جنگ طویل ہوئی تو مہنگائی میں مزید اضافہ اور عالمی معیشت کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، خاص طور پر یورپ جیسے خطے میں جو توانائی کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔

اسپین میں بھی صارفین کو آئندہ دنوں میں مزید قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار رہنا چاہیے، کیونکہ عالمی قیمتوں کا مکمل اثر ابھی تک پمپوں تک منتقل نہیں ہوا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے