اسپین کا اسرائیل پر غزہ فلوٹیلا کے 10 سے 20 ہسپانوی کارکنوں کی “غیر قانونی حراست” کا الزام

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ: اسپین کے وزیر خارجہ، یورپی یونین اور تعاون خوسے مینوئل الباریس نے کہا ہے کہ غزہ جانے والی امدادی فلوٹیلا میں شامل ایک سے دو درجن ہسپانوی کارکنوں کو اسرائیل نے “غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا ہے”، جب کہ حالیہ گھنٹوں میں بین الاقوامی پانیوں میں کئی کشتیوں کو روک لیا گیا۔

مصر کے وزیر خارجہ Badr Abdelaty سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ تقریباً 45 ہسپانوی شہری اس فلوٹیلا میں سوار تھے، جسے اسرائیلی بحریہ نے پیر کے روز قبرص کے قریب، غزہ سے تقریباً 250 ناٹیکل میل دور روک لیا۔

انہوں نے کہا“میرے پاس درست تعداد نہیں، مگر اندازاً 45 ہسپانوی تھے، جن میں سے 10 سے 20 اس وقت اسرائیلی فورسز کی حراست میں ہیں۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی رابطہ جاری ہے، کیونکہ اس مشن میں 45 ممالک کے تقریباً 500 کارکن شامل تھے۔

الباریس نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون اور سمندری قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ “یہ پندرہ دن پہلے ہونے والی ایک اور غیر قانونی کارروائی کے بعد ایک نئی خلاف ورزی ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکام کو ان ہسپانوی شہریوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں: “وہ انہیں قبرص لے جائیں یا اسرائیل، ہر صورت میں یہ ناقابل قبول اور غیر قانونی حراست ہے۔”
 اسی معاملے پر اسپین نے اسرائیل کی قائم مقام سفارتی نمائندہ Dana Ehrlich کو وزارت خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق وہ صورتحال پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھے ہوئے ہیں اور متعلقہ سفارتخانے مکمل طور پر متحرک ہیں۔
 الباریس نے ایران کے معاملے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال ناقابل برداشت ہے اور کسی بھی بڑے تصادم کا خطرہ موجود ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز اور جنوبی لبنان میں کشیدگی کے باعث۔ انہوں نے تمام فریقین سے جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور سفارتی حل کی طرف بڑھنے کی اپیل کی۔
 انہوں نے کہا کہ غزہ میں حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں اور مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیاں بڑھ رہی ہیں جبکہ آبادکاروں کا تشدد بھی بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کی جانب سے پرتشدد آبادکاروں پر پابندیوں کو سراہتے ہوئے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
 سوڈان کی خانہ جنگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی تقسیم کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور یہ ایک بڑی انسانی المیہ بن چکا ہے، جس پر عالمی توجہ کم ہے۔ انہوں نے امن عمل اور تعمیر نو کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے