اسرائیل کا لامین یامال پر شدید ردعمل، فلسطینی پرچم لہرانے پر “دہشت گردی کی حمایت” کا الزام

Screenshot

Screenshot

اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز نے ایف سی بارسلونا کے نوجوان کھلاڑی لامین یامال پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان پر “دہشت گردی کی حمایت” کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب یامال نے اپنی ٹیم کی لا لیگا ٹائٹل جیتنے کی خوشی میں فلسطینی پرچم لہرایا۔

کاتز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ لامین یامال نے اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیزی کی اور نفرت کو ہوا دی، جبکہ اسرائیلی فوج حماس کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ انہوں نے 7 اکتوبر کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حماس ایک ایسی تنظیم ہے جس نے نہتے شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا، اور یامال کے اس عمل کو اس تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل اور یہودی عوام کے خلاف کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی پر خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے ایف سی بارسلونا سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح اور دوٹوک انداز میں یامال کے اس اقدام سے لاتعلقی کا اظہار کرے اور یہ پیغام دے کہ کلب میں دہشت گردی یا نفرت کی کسی قسم کی حمایت کی گنجائش نہیں۔

دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ لامین یامال نے اسرائیل یا یہودیوں کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا، بلکہ صرف ایک فلسطینی پرچم لہرایا تھا جو انہیں جشن کے دوران ایک مداح نے دیا تھا۔ یہ واقعہ بارسلونا کی سڑک پاسیج دے گراسیا پر ٹیم کی فتح کے جشن کے دوران پیش آیا، جہاں یامال بس پر کھڑے ہو کر پرچم تھامے نظر آئے۔ اس منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی اور کئی صارفین نے ان کے اس عمل کی حمایت بھی کی۔ یامال نے خود بھی یہ تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کی۔

ادھر ایف سی بارسلونا کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم ٹیم کے کوچ ہانسی فلک نے اس عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ انہیں یہ حرکت پسند نہیں آئی، تاہم انہوں نے یامال سے بات کی ہے اور یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔ فلک کے مطابق یامال بالغ ہیں، لیکن ٹیم کا بنیادی مقصد فٹبال کھیلنا ہونا چاہیے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر کھیل اور سیاست کے باہمی تعلق پر بحث کو جنم دے رہا ہے، جہاں کھلاڑیوں کے ذاتی اظہار کو عالمی سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے