غزہ کے لیے امدادی بیڑا ایک بار پھر روانہ، اسرائیلی مداخلتوں کے باوجود کوششیں جاری

Screenshot

Screenshot

“گلوبل صمود فلوٹیلا” کے جہاز ترکی کے جنوبی شہر مارمارس سے جمعرات کے روز تیسری بار غزہ کے لیے روانہ ہو گئے، جبکہ اس سے قبل امدادی مشنوں کو اسرائیل نے بین الاقوامی سمندری حدود میں روک لیا تھا۔

اس سے پہلے یہ بیڑا 12 اپریل کو اسپین سے روانہ ہوا تھا، لیکن اسرائیلی افواج نے اسے روک کر 100 سے زائد فلسطین نواز کارکنوں کو یونان کے جزیرے کریٹ منتقل کر دیا، جبکہ دو افراد کو اسرائیل میں حراست میں رکھا گیا۔

مارمارس سے روانگی کے موقع پر کارکنوں کا کہنا تھا کہ غزہ تک امداد پہنچانا انتہائی ضروری ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی توجہ دیگر معاملات، جیسے ایران جنگ، کی طرف مبذول ہو چکی ہے۔

فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی رکن سوزن عبداللہ نے کہا “دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے ہم غزہ کی اصل صورتحال کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ محاصرہ اب بھی جاری ہے اور امداد نہیں پہنچ رہی۔”

برطانوی وفد کی کارکن کیٹی ڈیوڈسن نے بتایا کہ اس سے قبل بیڑے کو سسلی اور کریٹ کے درمیان روکا گیا تھا۔ انہوں نے برطانوی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے “کچھ نہیں کیا”۔

ڈیوڈسن کے مطابق، اگر بیڑا غزہ تک نہ بھی پہنچ سکا تو بھی اسے روکنے کا عمل عالمی توجہ حاصل کرنے کا باعث بنے گا۔

ترک کارکن شیما دینلی یالواچ نے کہا کہ میڈیا کی کم توجہ انہیں اپنے مشن سے نہیں روک سکتی:
 “اگر کوئی چینل ہمیں نشر نہ بھی کرے تو کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم اپنا سفر جاری رکھیں گے۔”

فلسطین نواز کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ غلط طور پر فلسطینی حقوق کی حمایت کو حماس کی حمایت سے جوڑتے ہیں۔

گزشتہ اکتوبر میں بھی اسی تنظیم کے ایک فلوٹیلا کو اسرائیلی فوج نے روک لیا تھا، جس میں سویڈن کی معروف کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت 450 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

فلسطینیوں، بین الاقوامی امدادی اداروں اور ترکی سمیت کئی ممالک کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ تک پہنچنے والی امداد ناکافی ہے۔

غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی کا بڑا حصہ بے گھر ہو چکا ہے اور لوگ تباہ شدہ گھروں، خیموں یا ملبے پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل، جو غزہ تک رسائی کے تمام راستوں کو کنٹرول کرتا ہے، اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ وہاں کے لوگوں کے لیے امداد روک رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے