ایک ماہ بعد بھی مہاجرین کی رجسٹریشن میں رکاوٹیں اور “نسلی تعصب پر مبنی” پولیس چھاپے جاری، تنظیموں کا دعویٰ
Screenshot
مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تحریک “ریگولرائزیشن یا” (Regularización Ya) نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر معمولی رجسٹریشن (ریگولرائزیشن) کے ایک ماہ بعد بھی انتظامی رکاوٹیں برقرار ہیں اور پولیس کی جانب سے “نسلی تعصب پر مبنی” چھاپے جاری ہیں۔
تحریک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے بیان میں کہا “کابینہ کی جانب سے غیر معمولی رجسٹریشن کی منظوری کو ایک ماہ گزر چکا ہے، لیکن بلدیاتی اداروں اور قونصل خانوں میں اب بھی رکاوٹیں موجود ہیں۔ پولیس کے نسلی بنیادوں پر چھاپے جاری ہیں، لوگوں کو CIE مراکز میں رکھا جا رہا ہے، اور ہر ہفتے ملک بدریاں بھی ہو رہی ہیں۔”
یہ تحریک مہاجرین، سماجی تنظیموں اور اینٹی ریسزم (نسل پرستی کے خلاف) گروہوں پر مشتمل ہے۔
تحریک نے یہ بھی کہا کہ اس عمل میں شامل سماجی تنظیمیں پوری محنت کے ساتھ لوگوں کی مدد کر رہی ہیں، جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور مختلف قسم کی انتظامی رکاوٹوں کے باوجود رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 جون ہے۔
یہ رجسٹریشن پروگرام 14 اپریل کو کابینہ کی منظوری کے بعد شروع ہوا تھا، جس سے ہزاروں غیر قانونی حیثیت رکھنے والے افراد میں امید پیدا ہوئی، تاہم اس کے ساتھ سیاسی، قانونی اور سماجی بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔
ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، پہلے ہفتے میں 130,000 سے زائد درخواستیں جمع ہوئیں، تاہم اس کے بعد حکومت نے مزید اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔
حکومت کے مطابق، اس اقدام سے تقریباً پانچ لاکھ غیر ملکی افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ عمل ایک طویل سیاسی اور سماجی بحث کے بعد شروع ہوا، جس کی بنیاد ایک عوامی قانون سازی کی مہم (ILP) تھی، جسے مختلف سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروہوں نے پیش کیا تھا۔