اسپین میں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد نئی بلند ترین سطح پر، خواتین کی شمولیت میں نمایاں اضافہ

Screenshot

Screenshot

اسپین میں غیر ملکی کارکنوں کی سوشل سکیورٹی میں رجسٹریشن نے ایک نیا ریکارڈ قائم کر لیا ہے، جس سے ملکی معیشت میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار کی واضح عکاسی ہوتی ہے۔ وزارتِ شمولیت، سوشل سکیورٹی اور ہجرت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں غیر ملکی ملازمین کی اوسط تعداد 32 لاکھ 40 ہزار تک پہنچ گئی، جو کہ اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ صرف ایک ماہ کے دوران تقریباً 96 ہزار سے زائد نئے غیر ملکی کارکن سسٹم میں شامل ہوئے، جبکہ سالانہ بنیاد پر یہ اضافہ 2 لاکھ 50 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔

وزارت کے مطابق غیر ملکی ملازمین کی شرحِ نمو 8.4 فیصد رہی، جو مجموعی روزگار کے اضافے یعنی 2.4 فیصد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت غیر ملکی کارکن اسپین کی کل لیبر فورس کا تقریباً 14.7 فیصد حصہ بن چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی معیشت میں ان کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق خواتین کی شرکت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پہلی بار غیر ملکی خواتین کارکنوں کی تعداد 14 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ مرد کارکنوں کی تعداد تقریباً 18 لاکھ 50 ہزار کے قریب ہے۔ مجموعی طور پر غیر ملکی ورک فورس میں خواتین کا حصہ 43.1 فیصد ہو چکا ہے، جو صنفی توازن میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔

شعبہ جاتی تقسیم کے لحاظ سے غیر ملکی کارکن خاص طور پر ہوٹل اور ریسٹورنٹ کے شعبے میں نمایاں ہیں، جہاں ان کا تناسب 29.8 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ زراعت میں 27.1 فیصد اور تعمیرات میں 24.6 فیصد غیر ملکی کارکن شامل ہیں۔ گھریلو ملازمت کے شعبے میں یہ شرح مزید زیادہ یعنی 43.5 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شعبے مقامی افرادی قوت کی کمی کے باعث بڑی حد تک غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کرتے ہیں۔

ملکی سطح پر مراکش کے شہری سب سے زیادہ تعداد میں سوشل سکیورٹی میں رجسٹرڈ ہیں، جن کی تعداد 4 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کے بعد رومانیہ، کولمبیا اور وینزویلا کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ خاص طور پر وینزویلا سے آنے والے کارکنوں کی تعداد گزشتہ دس برسوں میں غیر معمولی طور پر بڑھی ہے۔

تاہم اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ غیر ملکی کارکن اسپین کی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں، لیکن وہ طویل المدتی طور پر آبادی کے بڑھتے ہوئے عمر رسیدہ مسئلے کا مکمل حل نہیں ہیں، کیونکہ مہاجرین میں شرحِ پیدائش میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے