یورپی انسانی حقوق کنونشن کی نئی تشریح منظور، مہاجرین کی واپسی آسان ہونے کا امکان

Screenshot

Screenshot

15 مئی 2026 کو یورپی وزراء نے یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق (ECHR) کی ایک نئی تشریح منظور کی، جس کے نتیجے میں حکومتوں کے لیے مہاجرین کو ملک بدر کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ اس میں بعض افراد کو تیسرے ممالک میں قائم کیے جانے والے نام نہاد “ریٹرن حبز” میں منتقل کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔

یہ اعلان کونسل آف یورپ کی کمیٹی آف منسٹرز کے سالانہ اجلاس میں منظور کیا گیا، جو اس سال مالدووا میں منعقد ہوا۔

یہ پیش رفت اس بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد سامنے آئی ہے جو کچھ رکن ممالک نے گزشتہ برسوں میں ظاہر کی تھی کہ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے بعض فیصلوں نے غیر ملکی افراد کو ملک بدر کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہے، خاص طور پر وہ افراد جو جرائم میں ملوث ہوں یا جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہوں۔

نئی تشریح خاص طور پر کنونشن کے آرٹیکل 3 اور آرٹیکل 8 پر توجہ دیتی ہے۔ آرٹیکل 3 افراد کو تشدد اور غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک سے تحفظ دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 8 نجی اور خاندانی زندگی کے حق کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

اعلان کے مطابق، مہاجرت سے متعلق پالیسیوں میں تیسرے ممالک کے ساتھ تعاون، بشمول “ریٹرن حبز” کا قیام، قابل قبول ہوگا بشرطیکہ وہ ممالک انسانی حقوق کے معیار پر پورا اتریں۔

اگرچہ اس میں اس بات کو دہرایا گیا ہے کہ تشدد اور غیر انسانی سلوک کی ممانعت مکمل اور غیر مشروط ہے، تاہم اس بات کا تعین کہ کوئی سلوک کس حد تک سنگین ہے، اب ہر کیس کے حالات کے مطابق کیا جائے گا۔

یہ اعلان، جسے “چیسیناؤ ڈیکلریشن” کہا جا رہا ہے، قانونی طور پر پابند نہیں، لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے عدالتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے کہ وہ مہاجرت اور پناہ کے مقدمات میں زیادہ سخت رویہ اختیار کریں۔

برطانیہ ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس تبدیلی کی بھرپور حمایت کی۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام غیر قانونی مہاجرت کو روکنے، سرحدوں کو کنٹرول کرنے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے انسانی حقوق کے دیرینہ تحفظات کمزور ہو سکتے ہیں۔ ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں، جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل، نے خبردار کیا ہے کہ آرٹیکل 3 کی “مطلق” حیثیت کو متاثر کرنا بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

اسی طرح آرٹیکل 8 میں تبدیلی کے تحت حکومتیں قومی سلامتی یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر غیر ملکی افراد کو ان کے خاندانی حقوق کے باوجود ملک بدر کر سکیں گی، بشرطیکہ اس کے لیے مضبوط وجوہات موجود ہوں۔

دوسری جانب، یورپی کمیشن اور کونسل آف یورپ کے حکام نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مہاجرت کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور پالیسیوں میں وضاحت آئے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے