بارسلونا کا عمران خان ۔۔تحریر ڈاکٹرقمرفاروق

IMG_1489

کاتالونیا کے بڑے ہسپتال کانروتی کی گیارہویں منزل پر کھڑا لفٹ کا انتظار کررہا تھا کہ ایک صاحب نے جپھی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب یہاں کہاں؟میں نے مڑ کردیکھا تو حال احوال پوچھنے والا کوئی اور نہیں بلکہ اپنا عمران تھا الٹا میں نے پوچھ لیا کہ آپ یہاں کیوں ہیں ؟کہنے لگے کہ ایسے ہی، میں نے پھر کہا کہ  یہ وارڈ تو دل والوں کی ہے،کہیں آپ بھی دل تو نہیں لگا بیٹھے ،کہنے لگا کہ نہیں میں ایک دوست کو ملنے آیا تھا ۔اسی طرح کی گفتگو کرتے کرتے ہم لفٹ میں سوار ہو گئے میرے ساتھ میرا بیٹا علی ریحان بھی تھا وہ انکل کو بڑے غور سے دیکھتا رہا عمران نے بیٹے سے بھی حال احوال پوچھا۔

لفٹ رکی اور ہم باہر نکلے تو اپنی اپنی راہ پر ہو لئے،یہ میری عمران خان سے آخری ملاقات تھی یہ 18جنوری 2026کی سہ پہر تھی 

ہم گاڑی میں جا رہے تھے تو بیٹے نے پوچھا بابا انکل کی مونچھیں بڑی زبردست تھیں بڑی محنت کی ہوئی ہے میں نے بیٹے کو بتایا صرف مونچھیں ہی نہیں انکل بھی بڑے زبردست انسان ہیں خوش اخلاق اور ہنس مکھ طبعیت رکھتے ہیں کبھی ان کے پاس چلیں گے پھر مونچھوں کا بھی پوچھ لینا۔

سابق جنرل قمرجاوید باجوہ بارسلونا تشریف لائے تو مجھے کہا کہ کہ لا رامبلہ پر ایک ریسٹورنٹ ہے وہاں پہنچیں ،میں وہاں پہنچا تو وہاں سامنے عمران خان موجود تھا مجھے دیکھتے ہی مسکرانے لگے اور کہا پہلے عمران خان بعد میں باجوہ ،اس ایک فقرے میں بڑی گہرائی تھی،بارسلونا کا عمران خان بھی پاکستان کے عمران خان کا چاہنے والا تھا لیکن رواداری ایسی کہ سبھی کا احترام کرتا تھا کبھی کوئی تلخی والی بات نہیں سنی ۔

کہنے لگے کہ باجوہ صاحب تو چلے گئے ہیں اب وہ کسی سے ملاقات نہیں کریں گے وہ ہوٹل پہنچ گئے ہونگے اور آرام کریں گے۔ڈاکٹر قمر اور عمران خان یہی پر ہی گپ شپ لگائیں گے

پوچھنے لگے کہ کیا کھانا ہے میں کھانا لگواتا ہوں میں نے موسم کی طرف اشارہ کیا کہ اتنی سردی میں کیا کھایا جا سکتا ہے کہنے لگے میں سمجھ گیا یا گیا وہ آیا 

آرڈر کرکے واپس آگئے اور تقریبا آدھا گھنٹہ گپ شپ لگاتے رہے کبھی سیاست اور کبھی اپنے کام کی۔کھانا آگیا تو ابھی کھانا شروع کیا ہی تھا کہ دوبارہ یاسر ادریس کی کال آگئی میں نے موبائل کی جانب اشارہ کرکے کہا کہ کال آرہی ہے کہنے لگے سنو اب آپ کو روکنا مشکل ہے۔

میں نے کال سنی تو مجھے کہا گیا کہ ہم فلاں جگہ پر موجود ہیں وہی آجائیں میں عمران کو بتایا تو کہنے لگے کہ میں نام دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ اب قمر ،قمرباجوہ سے ضرور ملے گا۔

میں نے ازراہ تفنن کہا کہ عمران آؤ آپ کی باجوہ کے ساتھ فوٹو بناؤں گا کہنے لگے کہ میں مصروف ہوں جا نہیں سکتا ویسے صبح سے ادھر ہی تھے سب نے فوٹوز بنائی ہیں،اجازت کی اور میں وہاں سے نکل گیا۔

پردیس میں پردیسوں کا ایک اپنا معاشرہ ہوتا ہے یہاں مختلف علاقوں،صوبوں ،شہروں اور زبانوں والے ایک وطن کی پہچان پر ایک ساتھ رہتے ہیں،اور ایسا معاشرہ بناتے ہیں جیسے آپ اپنے گاؤں کے محلے میں رہنے والے ہوں دکھ سکھ سانجھے ہوتے ہیں اور اسی معاشرہ کا میں اور عمران حصہ تھے عمران خان ڈنگہ گجرات کے قریب ایک گاؤں سے اور میں فیصل آباد شاہ کوٹ کا رہائشی لیکن پاکستان کا یہ فاصلہ بارسلونا میں کبھی محسوس نہیں ہوا۔ہمارے بہت سارے دوست سانجھے تھے کئی ایک دوستوں کی وجہ سے میری عمران خان سے ملاقات ہوئی اور اسی طرح عمران خان کے کئی دوستوں کی وساطت سے میرے ساتھ تعلق بنا۔

ہمارے درمیان جو مضبوط پل تھا وہ چوہدری پرویز اقبال لوہسر اور محمد نواز سیال تھے ان دو احباب کی وجہ سے ہماری دوستی ہوئی ۔جو عمران خان کی وفات 13فروری تک برقرار رہی

عمران خان زندہ دل انسان تھا پھر پتہ نہیں کیوں دل ہی بیمار کر بیٹھا۔کہ دل دغا دے گیا۔

مسکراتا چہرہ اور خوبصورت گفتگو کرنے والا انسان جسے شاید یہ علم ہی نہیں تھا کہ دل بھی دکھایا جاتا ہے۔ یاسر ادریس کے تواسط سےعمران  کے ساتھ لاتعداد ملاقاتیں ہیں کہ اگر ان ملاقاتوں کویاد کرنے بیٹھ جاؤں تو کئی دن لکھنے میں لگ جائیں۔

وفا ایسی کہ میں نے کئی سال سے محمد نواز سیال کے ساتھ ہی دیکھا،دائیں بائیں سائے کی طرح ساتھ کھڑے پایا۔جب منہاج القرآن اسلامک سنٹر میں نماز جنازہ ادا کی گئی تو عمران کے ساتھی دوست محمد نواز سیال سے ہی تعزیت کرتے دکھائی دئیے جیسے ان کا ہی کوئی قریبی رشتہ دار جہان فانی سے کوچ کر گیا ہو۔ہونا بھی ایسے ہی تھا کہ دوست جب دوستی کا حق نبھاتے ہیں تو عام جاننے والے دونوں کو ایک ہی سمجھتے ہیں 

نماز جنازہ کی ادائیگی کے وقت منہاج اسلامک سنٹر میں  جگہ کم پڑ گئی کہ اتنے سارے لوگ عمران سے تعلق نبھانے اور آخری سلام کرنے پہنچ گئے ہر آنکھ آشکبار ہوگئی اور سبھی عمران بھائی عمران بھائی پکار کر اپنے درد اور دکھ کا اظہار کررہا تھا-

عمران اس فانی دنیا سے چلا گیا لیکن اپنی یادیں اور بے لوث تعلق کو بارسلونا کی فضاؤں میں چھوڑ گیا بارسلونا ایک عرصہ تک عمران کو یاد رکھے گا۔عمران اپنی مسکراہٹ،خوش مزاجی اور خوبصورت مونچھوں کے ذریعے اپنے چاہنے والوں کو یاد آتا رہے گا ۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے