مغرب کو تارکینِ وطن کی ضرورت کیوں ہے: ہسپانوی وزیرِاعظم کا پیدروسانچز کا نیویارک ٹائم میں کالم
ہسپانوی وزیرِاعظم نے کہا ہے کہ اسپین میں تقریباً پانچ لاکھ ایسے افراد رہتے ہیں جو ملک کی معیشت اور روزمرہ زندگی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، مگر قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ یہ افراد بزرگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، کھیتوں میں کام کرتے ہیں، کمپنیوں میں ملازم ہیں اور معاشرے کا فعال حصہ ہیں، لیکن وہ تعلیم، ٹیکس اور سوشل سیکیورٹی جیسے حقوق ادا نہیں کر سکتے۔
وزیرِاعظم کے مطابق بعض ممالک ایسے افراد کے خلاف سخت اور غیر انسانی کارروائیاں کرتے ہیں، مگر اسپین نے ایک مختلف راستہ اپنایا ہے۔ حال ہی میں حکومت نے ایک فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ پانچ لاکھ تک غیر قانونی تارکینِ وطن کو عارضی رہائشی اجازت نامے دیے جائیں گے، جن کی تجدید ایک سال بعد ممکن ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کی پہلی وجہ اخلاقی ہے۔ اسپین خود ماضی میں ہجرت کرنے والوں کا ملک رہا ہے، جہاں سے لاکھوں افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ اور امریکہ گئے۔ اب جب اسپین کی معیشت مضبوط ہو چکی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کے لیے بھی وہی رواداری دکھائے جس کی امید اس کے اپنے لوگوں نے کی تھی۔
دوسری وجہ عملی ہے۔ وزیرِاعظم کے مطابق مغربی دنیا کو افرادی قوت کی اشد ضرورت ہے۔ آبادی میں کمی، معیشت کی سست روی اور فلاحی نظام پر دباؤ جیسے مسائل کا حل منظم اور مؤثر امیگریشن کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ مصنوعی ذہانت اور نہ ہی روبوٹس قریبی مستقبل میں اس خلا کو پُر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ہجرت چیلنجز بھی لاتی ہے، مگر ان کا تعلق نسل، مذہب یا زبان سے نہیں بلکہ غربت، عدم مساوات اور تعلیم و صحت تک محدود رسائی جیسے مسائل سے ہے۔ ان مسائل کا حل ہی اصل ترجیح ہونی چاہیے۔
وزیرِاعظم نے بتایا کہ اسپین میں تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کی مہم عوامی حمایت سے شروع ہوئی، جسے سینکڑوں تنظیموں، کاروباری اداروں اور ٹریڈ یونینز کی تائید حاصل ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق دو تہائی اسپینی عوام امیگریشن کو ملک کے لیے ضرورت یا موقع سمجھتے ہیں۔
انہوں نے دائیں بازو کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسپین کی معیشت ترقی کر رہی ہے، بے روزگاری کم ہوئی ہے اور معیارِ زندگی بہتر ہوا ہے۔ ان کے بقول کھلے اور شامل معاشرے ہی خوشحال ہوتے ہیں، جبکہ بند ذہنیت غربت اور زوال کو جنم دیتی ہے۔