جرمنی میں رضاکارانہ واپسیوں میں نمایاں اضافہ

Screenshot

Screenshot

جرمنی میں 2025 کے دوران مالی معاونت کے تحت رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے ناکام پناہ گزینوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جرمن وفاقی دفتر برائے مہاجرت و پناہ گزینان (BAMF) کے مطابق، گزشتہ برس 16 ہزار 576 افراد نے REAG-GARP پروگرام کے تحت جرمنی چھوڑا، جو پچھلے دو برسوں کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی زیادہ ہے۔

اس اضافے کی بڑی وجہ شامی شہریوں کی واپسی بتائی جا رہی ہے، جنہوں نے دسمبر 2024 میں شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد اپنے وطن لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ 2025 میں شام واپسی کے لیے قریب 6 ہزار درخواستیں جمع ہوئیں، جن میں سے 3 ہزار سے زائد افراد سال کے اختتام تک واپس جا چکے تھے۔

BAMF کے مطابق رضاکارانہ واپسی ذمہ دار مہاجرتی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرِنٹ نے بھی ان واپسیوں کو مہاجرتی پالیسی میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ اعداد و شمار کے مطابق ترکی کے شہری واپسی کرنے والوں میں سرفہرست رہے، جبکہ شامی شہری دوسرے نمبر پر تھے۔

REAG-GARP پروگرام کے تحت حکومت واپسی کے سفر اور ابتدائی مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ رضاکارانہ واپسیوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم شام کی صورتحال ابھی اتنی مستحکم نہیں کہ بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی کا آغاز کیا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے