عالمی یومِ کینسر کے موقع پر ڈاکٹر خوآکیم بیلمونت کا کینسر کے نئے علاج پر اظہارِ خیال
Screenshot
بارسلونا/کاتالونیا میں تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر خوآکیم بیلمونت کو حال ہی میں ہارورڈ یونیورسٹی میں فل پروفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ایسے ڈاکٹر ہیں جن کی بنیادی طبی تربیت کاتالونیا میں ہوئی۔
ڈاکٹر بیلمونت کا کہنا تھا،“میری خواہش ہے کہ ہم کینسر کا مکمل علاج کر سکیں، لیکن آج ہمارا ہدف یہ ہے کہ اسے ایک دائمی بیماری میں تبدیل کیا جائے، ایسی بیماری جس کے مؤثر علاج موجود ہوں اور مریض کی زندگی کا معیار برقرار رہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ کینسر کو ایک واحد بیماری سمجھنا درست نہیں۔ ماہرین عرصے سے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ کینسر دراصل کئی مختلف بیماریوں کا مجموعہ ہے۔ اس کے اثرات میں کمی کسی ایک بڑی دریافت سے نہیں بلکہ احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص اور زیادہ مؤثر و ہدفی علاج کے امتزاج سے آتی ہے۔ اسی حکمتِ عملی کے باعث بہت سے مریض برسوں تک کینسر کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر بیلمونت نے لیکوئیڈ بایوپسی کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا۔ یہ ایک خون کا ٹیسٹ ہے جس کے ذریعے خون میں موجود ٹیومر ڈی این اے کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
جدید سیکوئنسنگ تکنیک کی مدد سے یہ طریقہ بغیر کسی جراحی مداخلت کے اور انتہائی ابتدائی مرحلے میں کینسر کی تشخیص ممکن بناتا ہے، بعض اوقات اس سے پہلے کہ دیگر ٹیسٹ اس مرض کو پکڑ سکیں۔ اس سے معالجین کو ہر مرحلے پر ٹیومر کی نوعیت کے مطابق علاج کا فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ڈاکٹر بیلمونت کے مطابق،“کینسر کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے خلیے مسلسل تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔ علاج زیادہ تر خلیوں کو ختم کر دیتا ہے، مگر چند مزاحم خلیے باقی رہ سکتے ہیں جو بعد میں دوبارہ پھیل جاتے ہیں۔ لیکوئیڈ بایوپسی کے ذریعے ہم وقت کے ساتھ ٹیومر کی اس تبدیلی کو مانیٹر کر سکتے ہیں۔”
اگرچہ یہ تکنیک اب طبی عمل کا حصہ بن چکی ہے، تاہم اس کا استعمال فی الحال مخصوص اقسام کے کینسر اور محدود حالات تک ہی ہے۔
ڈاکٹر بیلمونت کے مطابق کینسر کے علاج کے طریقوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چند دہائیاں پہلے علاج کا دارومدار زیادہ تر کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی اور سرجری پر تھا، جبکہ آج آنکولوجسٹ کے پاس کہیں زیادہ وسیع انتخاب موجود ہے۔
امیونو تھراپی، جو مریض کے اپنے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف متحرک کرتی ہے، اور ٹارگٹڈ تھراپیز، جو ٹیومر کی مخصوص جینیاتی یا مالیکیولر خصوصیات کو نشانہ بناتی ہیں، بہت سے مریضوں کے لیے نتائج بدل چکی ہیں۔ ان علاجوں کا امتزاج نئے امکانات اور نئی امید پیدا کر رہا ہے۔