پیدروسانچز آزادیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے،ٹیلیگرام 

Screenshot

Screenshot

ٹیلیگرام کے بانی اور سی ای او پاویل دوروف نے اسپین میں سوشل میڈیا کے حوالے سے مجوزہ نئی قانون سازی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تمام صارفین کو خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم پیدرو سانچیز کی حکومت ایسی خطرناک ضوابط لا رہی ہے جو انٹرنیٹ پر شہری آزادیوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔

پاویل دوروف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ اقدامات بظاہر “تحفظ” کے نام پر متعارف کرائے جا رہے ہیں، لیکن درحقیقت یہ اسپین کو ایک نگرانی پر مبنی ریاست میں بدلنے کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی دراصل تمام صارفین کی شناخت کی تصدیق کا بہانہ بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ذاتی ڈیٹا اکٹھا کیے جانے کا خدشہ ہے۔

ٹیلیگرام کے بانی کے مطابق مجوزہ قانون میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر پلیٹ فارمز مبینہ طور پر “غیر قانونی، نفرت انگیز یا نقصان دہ” مواد فوری طور پر حذف نہ کریں تو ان کے منتظمین کو فوجداری ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوروف نے خبردار کیا کہ اس سے حد سے زیادہ سنسرشپ کو فروغ ملے گا، اور پلیٹ فارمز کسی بھی متنازع مواد کو حذف کرنے لگیں گے، جس کے نتیجے میں سیاسی اختلاف، صحافتی آوازیں اور عام شہریوں کی آرا دب سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانون سازی کے پیکج میں “نفرت اور پولرائزیشن کے سراغ” جیسے اقدامات اور الگورتھمز کے ذریعے مواد پھیلانے کو جرم قرار دینے کی تجاویز بھی شامل ہیں، جو بالآخر مختلف اور مخالف آرا کو پس منظر میں دھکیل سکتی ہیں۔

اپنے پیغام کے اختتام پر پاویل دوروف نے اسپین کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہوشیار رہیں، شفافیت کا مطالبہ کریں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا، “اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔”

پاویل دوروف کا یہ مؤقف امریکی ارب پتی ایلون مسک کی تنقید سے جا ملتا ہے، جنہوں نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیدرو سانچیز پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے انہیں “آمرانہ طرزِ فکر” کا حامل قرار دیا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے