ٹیلیگرام کے سربراہ کی تنقید پر وزیرِاعظم پیدرو سانچیز کا ردِعمل:
Screenshot
ہسپانوی وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ضابطۂ کار سے متعلق ٹیلیگرام کے بانی اور سی ای او پاویل دوروف کی تنقید کا جواب دیا ہے۔ وزیرِاعظم نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:“ٹیکنو اولیگارکس کو بھونکنے دو، سانچو، اس سے پتا چلتا ہے کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔”
وزیرِاعظم کے دفتر مونکلوا نے دوروف پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے حکومت کے خلاف “کئی جھوٹ” بولے اور “غیر قانونی و ناجائز حملے” کیے۔ یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب پاویل دوروف نے خود ٹیلیگرام کے ذریعے اسپین کے صارفین کو ایک اجتماعی پیغام بھیج کر انہیں “چوکنا رہنے” اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی اپیل کی، اور حکومت پر “مکمل کنٹرول” کی طرف بڑھنے کا الزام لگایا۔
مونکلوا کے ذرائع نے اس بات پر بھی شدید تنقید کی کہ ٹیلیگرام کے سربراہ نے بغیر کسی پابندی کے اپنے پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے اسپین بھر کے صارفین کو براہِ راست پیغام بھیجا۔ ذرائع کے مطابق:“اسپین کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنی کے مالک نے اپنی ایپ کے ذریعے اس طرح کی سیاسی مہم چلائی ہو۔”
دوسری جانب نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ محنت یولاندا دیاث نے بھی اس اقدام کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ “ٹیلیگرام کے ہزاروں صارفین کو اس کے مالک کی جانب سے ایک غیر مجاز پیغام موصول ہوا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ حکومت آزادیوں کے لیے خطرہ ہے۔”
یولاندا دیاث نے بلیو اسکائی پر لکھا:“وہ ہمیں گرا نہیں سکتے۔ ہم ڈیجیٹل اجارہ داریوں کو توڑیں گے اور ٹیکنالوجی کو محنت کش عوام کے ہاتھوں میں واپس دیں گے۔ طاقت عوام کی ہے، ان کی نہیں۔”
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دوروف کا یہ پیغام بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس کو ریگولیٹ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق:“اسپین کے شہری ایسے ماحول میں نہیں رہ سکتے جہاں غیر ملکی ٹیکنو اولیگارکس، صرف اس لیے کہ حکومت بچوں کے تحفظ اور قانون پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کر رہی ہے، ہمارے موبائل فونز کو اپنی مرضی کی پروپیگنڈا مہم سے بھر دیں۔”
حکومت نے یہ بھی یاد دلایا کہ پاویل دوروف پر “سنگین جرائم میں ممکنہ ذمہ داری” کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، اور یہ کہ ٹیلیگرام نے بارہا اپنے کنٹرول اور نگرانی سے متعلق فرائض پورے نہیں کیے۔ مونکلوا کے مطابق، پلیٹ فارم کو جان بوجھ کر “کم سے کم نگرانی” کے اصول پر ڈیزائن کیا گیا، جس کے باعث یہ ایپ بچوں کے جنسی استحصال، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، جن کے کیسز فرانس، جنوبی کوریا اور اسپین میں زیرِ تفتیش ہیں۔