برسلز کا سانچیز کے ڈیجیٹل منصوبے پر اعتراض
Screenshot
یورپی کمیشن نے ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز کے اس منصوبے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے سربراہان کو صارفین کے شائع کردہ مواد پر فوجداری طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جانا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کسی پلیٹ فارم کے چیف ایگزیکٹو کو دوسروں کے آن لائن مواد کا ذمہ دار کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
یورپی کمیشن کے ترجمان تھامس رینئر کے مطابق ڈیجیٹل سروسز ایکٹ افراد کے خلاف نہیں بلکہ خود پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر الگورتھم کے ذریعے کسی مواد کو جان بوجھ کر فروغ دیا جائے تو ذمہ داری پلیٹ فارم پر عائد ہو گی، نہ کہ اس کے سربراہ پر۔
سانچیز نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے اور الگورتھمز میں ہیرا پھیری کو جرم قرار دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم برسلز کے مطابق یہ منصوبہ یورپی یونین کے موجودہ ڈیجیٹل قوانین سے متصادم ہو سکتا ہے، کیونکہ رکن ممالک یورپی قانون سے ہٹ کر اضافی پابندیاں عائد نہیں کر سکتے۔
ماہرینِ قانون میں اس معاملے پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق قومی حکومتیں سخت قوانین بنا سکتی ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک ایسا کرنا یورپی قوانین کی خلاف ورزی ہو گا۔ ادھر اس منصوبے پر ٹیک کمپنیوں کی جانب سے شدید ردِعمل بھی سامنے آیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین ڈیجیٹل آزادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔