ٹرمپ کاامن بورڈ اور اسپین کا مؤقف۔۔تحریر سید ایاز حسین
اسپین کے وزیرِاعظم جناب پیدرو سانچیز نے 23 جنوری 2026 کو برسلز میں یورپی یونین کے ایک غیر معمولی سربراہی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اسپین فلسطین سے متعلق نام نہاد ” امن بورڈ” (Peace Board) میں شرکت نہیں کرے گا۔
دیگر یورپی ممالک کی طرح اسپین نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مجوزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت مسترد کر دی۔ یہ مجوزہ بورڈ غزہ اور مغربی کنارے میں جنگ بندی، تعمیرِ نو اور دیرپا امن کے قیام سے متعلق بین الاقوامی بحث کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔
وزیرِاعظم نے دعوت پر اظہارِ تشکر کا اظہار کیا تاہم شمولیت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اسپین کی کثیرالجہتی سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے نظام سے وابستگی کے عین مطابق ہے۔ سب سے اہم وجہ یہ بتائی گئی کہ مجوزہ بورڈ میں فلسطینی اتھارٹی کو شامل نہیں کیا گیا۔
انکار کی وجوہات
جناب پیدرو سانچیز کے مطابق، "یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے فریم ورک سے باہر ہے اور تسلیم شدہ کثیرالجہتی طریقۂ کار کے تحت نہیں آتا” ۔مزید برآں، بورڈ کے ڈھانچے میں فلسطینی اتھارٹی کی عدم شمولیت ایک بنیادی نکتہ ہے۔ اسپین کی حکومت امن کی کوششوں میںہمیشہ سے فلسطینی شرکت کی حامی رہی ہے۔
وزیرِاعظم نے اس امر پر زور دیا کہ غزہ اور مغربی کنارے کے مستقبل کا فیصلہ خود فلسطینیوں کو کرنا چاہیے جو کہ مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے نظام کی حمایت سے متعلق اسپین کے مؤقف کے مطابق ہے۔
اسپین اقوامِ متحدہ کے زیرِاہتمام کثیرالجہتی سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے اور اقوامِ متحدہ سے باہر قائم کیے جانے والے عارضی یا غیر رسمی اداروں کی حمایت نہیں کرتا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسپین نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ریاستِ فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کر رکھا ہے اور فلسطینی قیادت کے ساتھ سفارتی روابط جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاریخی طور پر یہ بھی یاد رکھا جانا چاہیے کہ 30 اکتوبر سے یکم نومبر 1991 تک مشہور”میڈرڈ امن کانفرنس” اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں، وزیرِاعظم فیلیپے گونزالیز کے دورِ حکومت میں منعقد ہوئی تھی۔
یہ کانفرنس امریکہ اور سوویت یونین کی مشترکہ سرپرستی میں منعقد ہوئی جب کہ اسپین نے اس کی میزبانی کی۔ امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش (بش سینئر) اور سوویت صدر میخائل گورباچوف نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا۔
اس کانفرنس میں اسرائیل، شام، لبنان اور مصر کے وفود کے ساتھ ساتھ ایک مشترکہ اردنی-فلسطینی وفد بھی شریک ہوا، جس میں مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینی نمائندے شامل تھے۔ یہ پہلا بڑا بین الاقوامی موقع تھا جس میں اسرائیلیوں، فلسطینیوں اور عرب ریاستوں کو امن کے ایک فریم ورک پر بات چیت کے لیے ایک میز پر لایا گیا۔ اس کانفرنس کا مقصد براہِ راست مذاکرات کا آغاز اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے سفارتی بنیاد فراہم کرنا تھا۔
میڈرڈ امن کانفرنس نے بعد کی بات چیت کے لیے راہ ہموار کی اور دو طرفہ اور کثیرالجہتی مذاکرات کا آغاز کیا، جنہوں نے بعد کے معاہدوں پر اثر ڈالا، جن میںاوسلو معاہدات (1993) بھی شامل ہیں۔ اوسلو اوّل معاہدہ (1993) اسی وسیع تر عمل کا نتیجہ تھا، جس کے تحت اسرائیل اور فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے درمیان باہمی تسلیم کا عمل سامنے آیا۔
سانچیز حکومت نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی حمایت پر مبنی ہے۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی امن اقدام میں فلسطینی اتھارٹی کی شمولیت ناگزیر ہے اور اسے تسلیم شدہ بین الاقوامی فریم ورک کے اندر ہونا چاہیے۔
حکمراں سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کے اتحادی اور بائیں بازو کے حامیوں نے بھی امن بورڈ کے تصور کا علانیہ اس خدشے کے تحت مسترد کیا ہے کہ یہ اقدام، اقوامِ متحدہ جیسے موجودہ بین الاقوامی ڈھانچوں کو کمزور کر سکتا ہے اور فلسطینی اتھارٹی کو نظرانداز کر دے گا۔
دوسری جانب، دائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں، جیسےپارتیدو پاپولر (PP) اور ووکس (VOX) نے تاحال حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔