عہدِ وفا سے عہدِ مفاد تکاز قلم : شنیلہ جبین زاہدی بارسلونا سپین
Screenshot
اس کائنات کی ہر شے میں خالقِ کائنات کے قائم کردہ منظم نظام کی ایک کامل اور ناقابلِ انکار شہادت موجود ہے۔ ذرّہ ذرّہ اپنے مقررہ مدار میں اس کے حکم کے سامنے سر بسجود ہے۔ مگر جس مخلوق کے لیے یہ پوری کائنات تخلیق کے مراحل سے گزاری گئی ، وہی اشرفُ المخلوقات آج فکری انتشار، اخلاقی زوال اور روحانی افلاس کا استعارہ بن چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے باطن میں خیر و شر کی تمیز ودیعت کی، تاکہ وہ حق و باطل میں فرق کر سکے۔ ایمان کی وہ فطری چنگاری جو ہر دل میں رکھی گئی تھی، دنیا کی چکا چوند میں مدہم پڑتی چلی گئی۔ انسان نے اپنے رب سے کیا ہوا عہد توڑا، پھر اسے توڑنے کا ایسا معمول بنایا کہ اپنے حواص کھو بیٹھا۔ دنیاوی کشش نے آنکھوں سے نورِ الٰہی اور دلوں سے نورِ بصیرت چھین لیا۔
ہمیں ابو آدم اور نبیِ آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کا علم بردار ہونا چاہیے تھا، مگر ہم نے اپنی شناخت خود مسخ کر دی۔ اغیار کو اپنا مرکز بنایا اور اپنی وفاداریاں ان کے قدموں میں رکھ دیں۔ نبیِ کریم ﷺ نے اسلامی پیغام کے فروغ کے لیے ناقابلِ بیان صعوبتیں برداشت کیں۔ اپنا وجود، اپنی عبادات، اپنی ریاضتیں اور پوری حیات مبارکہ امت کی ہدایت اور نجات کے لیے وقف کر دی۔
اور آج امت کا المیہ یہ ہے کہ انہی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر غداروں سے ہاتھ ملایا جا رہا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے امتِ مسلمہ کے باہمی رشتے اور ذمہ داری کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا:
“ایمان والوں کی مثال باہمی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی سی ہے؛ اگر جسم کا ایک عضو تکلیف میں ہو تو پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔”
(صحیح مسلم: 2586)
ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا:
“المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ، لا يَظْلِمُهُ ولا يَخْذُلُهُ”
یعنی مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے؛ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔
(صحیح البخاری: 2442، صحیح مسلم: 2586)
اس کے باوجود یہ کیونکر ممکن ہوا کہ غزہ جلتا رہا، بلکتا رہا، اور مسلم دنیا خاموش تماشائی بنی رہی؟ معصوم بچوں کی لاشیں، ماؤں کی چیخیں اور برباد بستیاں عالمی ضمیر پر دستک دیتی رہیں، مگر کان بند رہے۔ اور آج اگر بیداری کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے تو مظلوم کا ہاتھ تھامنے کے بجائے غداروں سے مصافحہ کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ اندھا پن ہے، یا وہ فکری زوال جس میں عقلِ سلیم کو دیمک چاٹ چکی ہے؟
قرآنِ کریم کی یہ تنبیہ بھی ہمارے سامنے ہے:
“اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست (ولی) نہ بناؤ”
(سورۃ المائدہ: 51)
مسجدِ اقصیٰ جس سے رسولِ اکرم ﷺ کی نسبت اور محبت کو قرآن نے دوام بخشا ، آج لہو لہان ہے۔ اس کے ساتھ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کا مقدر بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ ہم نے انہیں جرأت کے بجائے مصلحت، غیرت کے بجائے بزدلی، اور وفا کے بجائے دنیاوی مفاد ورثے میں دیا ہے۔
علامہ اقبال نے اسی زوال پر ہمیں متنبہ کیا تھا:
"شکایت ہے مجھے یارب! ان خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا”
غزہ کے بچوں، ماؤں اور بیٹیوں کی چیخیں تاریخ کے اوراق میں نوحہ بن چکی ہیں۔ ابو عبیدہ جیسے مجاہد تاریخ میں امر ہو گئے، مگر زندہ ضمیر نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔ کس کس سانحے پر آنسو بہائے جائیں، اور کہاں جا کر دستک دی جائے کہ سوئے ہوئے دل بیدار ہوں؟
ہم کربلا کو تاریخ سمجھتے رہے، آج اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دہراتے دیکھ رہے ہیں۔
اور ایک بات طے ہے ۔
اس خاموشی کا حساب ہم سب کو دینا ہو گا۔
ان سب کو، جو موت کے خوف میں حق کی آواز بلند نہ کر سکے