اوورسیز کنونشن بار سلونا۔۔تحریر۔۔حق نواز چوہدری

IMG_9923

بار سلونااسپین میں 24 اور 25 جنوری 2026 کو اوورسیز کنونشن کے نام سے دو پروگرام ہوئے ایک پاک فیڈریشن اسپین اور دوسرا ہوپ اوورسیز کے زیر اہتمام منعقد کئے گئے، دونوں کا یہ دعویٰ ہے کہ کامیاب پروگرام ہوئے مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ یہ پروگرام کرانے کا مقصد کیا تھا کیا صرف مہمانوں کا استقبال کرنا بڑا جلسہ کرنا ان کو کھانا کھلانا اور آپس میں شیلڈز تقسیم کرنا ہی کامیابی کا نام ہے یا کمیونٹی کے مسائل حل کرانا ضروری ہیں 

  پاکستان سے اس کنونشن میں شرکت کرنے والے مہمان اہم شخصیات تھیں جن میں وفاقی وزیر قانون جناب اعظم نزیر تارڑ صاحب ،چئیرمین اوورسیز سید قمررضا شاہ ہوپ کے چیئرمین ساجد تارڑ اور بار کونسل کے ممبر احس بھون صاحب اس وفد میں شامل تھے سپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لئے ان سے فایدہ اٹھانا چاہیے تھا مگر کسی ایک مسئلے کے حل کا ذکر تک نہیں ہوا پوری کمیونٹی میں سے چوہدری ساجد تارڑ صاحب نے ہمت کرکے کچھ مسائل کی نشاندھی کی گئی یا پھر راجہ شفیق کیانی صاحب نے شناختی کارڈ بلاک ہونے کی طرف توجہ دلائی مگر کنونشن کے جو میزبان تھے ان میں سے کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ مسائل کا ذکر کرتے شاید ان کو اپنے ذاتی معاملات عزیز تھے کہ اگر کمیونٹی کے مسائل کا ذکر کیا تو مہمان ناراض نہ ہو جائیں اور ہمارے ذاتی مسائل بھی حل نہ ہوں

  تین چار ماہ قبل بھی فیڈریشن نے ایک کنونشن کرایا تھا جس کے مہمان خصوصی جناب سید قمر رضا صاحب تھے اور انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ تین ماہ میں آپ کے مسائل حل ہو جائیں گے اس کنونشن میں بھی وہ موجود تھے مگر ایک لفظ تک منہ سے نہیں نکالا کہ اس وعدہ کا کیا بنا اور نہ ہی کسی نے پوچھنے کی جرات کی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فیڈریشن سپین پاکستانی کمیونٹی کی ایک بڑی تنظیم ہے اور ماضی میں فیڈریشن نے کمیونٹی کے بڑے بڑے مسائل حل کرانے ہیں مگر چند سالوں سے فیڈریشن کے ذمہ داران کی شاید ترجیحات بدل گئی ہیں کمیونٹی کے مسائل کے بجائے اپنی ذاتی تشہیر فوٹو سیشن اور سوشل میڈیا کی طرف ہوگئی ہیں اب عہدیداروں میں دو طرح کے لوگ ہیں 

1  وہ لوگ جو صرف فوٹو بنوانے کے شوقین ہیں وہ ہر پروگرام میں ذرا کوشش کرکے حکومتی عہدیداروں یا مہمانوں کے نزدیک ہونے کی کوشش کرتے ہیں کہ میری تصویر آجائے پھر وہ خود ہی سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر وائرل بھی کرتے ہیں اور دوستوں کو بھی بھیجتے ہیں اور دکھاتے پھرتے ہیں کہ دیکھو میری فلاں رہنما کے ساتھ فوٹو ہے ان کو کمیونٹی کے مسائل سے کوئی غرض نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی تشہیر کے پجاری ہوتے ہیں 

2۔  دوسری قسم ایسے رہنماؤں کی ہوتی ہے جو پاکستان میں حکومتی اہم شخصیات کو بار سلونا کی دعوت دیتے ہیں یہاں انکا بھرپور استقبال کرتے ہیں پروگرام کراتے ہیں دعوتیں دیتے ہیں مگر ان میں سے بھی بعض ایسے رہنما ہیں جو یہ تمام کاوشیں کمیونٹی کے مسائل اجاگر کرنے کے لئے نہیں کرتے بلکہ ان حکومتی شخصیات سے اپنے ذاتی تعلقات بڑھانے کے لیے کرتے ہیں پاکستان میں ان کے اپنے بہت سے ذاتی معاملات ہوتے ہیں ان کو حل کرانے پر ترجیح دیتے ہیں تو پھر بتائیں کہ کمیونٹی کے مسائل کا وہ کیسے ذکر کریں گے 

میں تو پھر یہی کہونگا کہ  کچھ رہنما ذاتی معاملات کے حل کے پجاری نکلے

باقی فوٹو سیشن کے سوالی نکلے

ایمبسی وچ سیتے دے ریٹ نے ساڈی جان کڈھ لئی اے

رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے