کاتالان اور ہسپانوی حکومتوں کی غیر قانونی تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر زور

Screenshot

Screenshot

بارسلونا: کاتالان اور ہسپانوی حکومتوں نے غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے باہمی تعاون اور مؤثر رابطہ کاری پر زور دیا ہے۔ بدھ کے روز بارسلونا کے پالاؤ دے پیدرالبیس میں منعقدہ اجلاس میں سماجی، معاشی اور مقامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد کاتالونیا کی وزیرِ سماجی حقوق مونیکا مارٹینیز اور وزیرِ مساوات و نسوانیت ایوا مینر نے مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریق اس بات پر متفق ہیں کہ ریگولرائزیشن کا عمل کامیاب بنانے کے لیے اداروں کے درمیان مکمل تعاون ضروری ہے۔ مونیکا مارتینیز نے یقین دہانی کرائی کہ انتظامی رکاوٹوں، معلومات کی کمی یا وسائل کی قلت کے باعث کوئی بھی شخص اس عمل سے باہر نہیں رہے گا۔

کاتالان حکومت تکنیکی رابطہ کمیٹیاں قائم کرے گی جو یہ جائزہ لیں گی کہ کاتالونیا میں رہائش پذیر اور کام کرنے والے تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے کن وسائل کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں کاتالان حکومت کے اعلیٰ حکام، کاروباری تنظیموں، ٹریڈ یونینز، سماجی اداروں، صوبائی کونسلوں، بارسلونا سٹی کونسل اور بلدیاتی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ آئندہ مراحل میں قونصل خانوں کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے گا۔ ریگولرائزیشن کے لیے درخواستوں کا آغاز اپریل 2026 میں متوقع ہے۔

سماجی تنظیموں کے پلیٹ فارم “تاولا دل ترسر سیکتور” کے صدر ژاویئر ترابادو نے اجلاس کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ اس عمل کی کامیابی کے لیے ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔ ٹریڈ یونین یو جی ٹی کے جنرل سیکریٹری کامل روس نے بھی اجلاس کے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر افراد پہلے ہی روزگار سے وابستہ ہیں، اس لیے یہ اقدام ہزاروں خاندانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے