وزارت خارجہ و داخلہ پاکستان متوجہ ہوں ،اوورسیز پاکستانی اسپین آپ کی جانب دیکھ رہے ہیں ،تحریر۔۔سردار ارشد بارسلونا اسپین

481

میری گورنمنٹ اف پاکستان وزیراعظم پاکستان وزیر داخلہ جو بھی ذمہ داران ہیں  سے گزارش ہے خصوصی نوعیت کا ایک معاملہ ہے جس کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں اوورسیز پاکستانی پاکستان کی معیشیت میں بیک بون کا کردار ادا کرتے ہیں پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں بے شمار تعریفی جملے ہیں جو بسا اوقات سننے کو ملتے ہیں لیکن اس اوورسیز کمیونٹی کے کچھ بنیادی مسائل جو زیادہ تر وزارت خارجہ اور وزارت قانون و انصاف سے متعلقہ ہوتے ہیں ان کے حل کے لیے کبھی کوئی جامع حکمت عملی واضح پلان اف ایکشن ہمیں دیکھنے کو نہیں ملتا حالانکہ یہ اوورسیز پاکستانی ریاست پر اتنی بڑی رحمت کی صورت میں موجود  ہیں جو ریاست ماں جیسی میں پیدا ہوتے ہیں لیکن اپنی ساری ذمہ داریاں اپنا سارا بوجھ خود اٹھاتے ہیں ان اوورسیز پاکستانیز کا ہاتھ صرف دینے والا ہاتھ ہے خرچ کرنے والا ہاتھ ہے اپنے ملک کی عافیت اور سلامتی کی دعاؤں کے لیے اٹھنے والا ہاتھ ہے لیکن جب اس اوورسیز کی ڈگنیٹی کی بات اتی ہے اس کی تکریم اور احترام کی بات اتی ہے جب ریاست سے چند ضروریات وہ جو مختلف ڈاکومنٹس کی صورت میں ہوتی ہے یا ایئرپورٹس کے متعلقہ یا اپنی پراپرٹیز کے متعلقہ تو اس وقت میں اوورسیز پاکستانیوں کو یہ احساس دلوایا جاتا ہے کہ تم صرف ایک ورکنگ ٹول ہو ہمارے لیے تم صرف پیسے بھیجنے والی اور کمانے والی مشین ہو تمہارے ساتھ کیے گئے وعدے وحید صرف چند جملے اور الفاظ ہوتے ہیں ان پر پہرا دینا نہ تو اخلاقی طور پر اور نہ قانونی طور پر ہم پر لازم اس تحریر کا مقصد میں اپ کی توجہ اس ضروری مسئلے کی طرف مبزول کروانا چاہتا ہوں کچھ دن قبل گورنمنٹ اف اسپین نے غیر قانونی طور پر مقیم لوگوں کو اوپن امیگریشن کے ذریعے قانونی دستاویزات دینے کا فیصلہ کیا یہ گورنمنٹ اف اسپین کا بہت بڑا اقدام ہے اس میں پاکستانیوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں اس کے لیے پاسپورٹ کریکٹر سرٹیفکیٹ ہر ایک باشندے کو اپنے ملک سے حاصل کرنا پڑتا ہے ہر ملک اس وقت میں اپنے باشندوں کو ایمرجنسی کی بنیاد پر قانونی دستاویزات مہیا کر رہا ہےا سپین ایمبیسی میڈرڈ  کونصلیٹ بارسلونا اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن وہ اؤٹ اف باکس کوئی کام نہیں کر سکتے جس کی وزارت خارجہ سے یا وزارت داخلہ سے ان کو اجازت نہ ہو پاسپورٹ بنوانے کے لیے ہماری ایمبیسکی یہ ریکوائرمنٹ ہے ا سپین کے کسی پولیس اسٹیشن سے اپنے پاسپورٹ کی گمشدگی کی رجسٹرڈ رپورٹ لے کر ائیں پہلے تو یہ چلتا رہا چونکہ اکا دکا لوگ جاتے تھے تو معیوب بھی نہیں لگتا تھا اب ہزاروں کی تعداد میں پورے اسپین کے پولیس اسٹیشن کے باہر پاکستانی قطاروں میں لگے ہیں اپنے پاسپورٹ کی گمشدگی کی رپورٹ لینے کے لیے۔ اپ سارے سنجیدہ لوگ ہیں مجھے اپ بتائیں کہ پولیس ایک اہم ادارہ ہوتا ہے کسی بھی ملک کا جب اس میں روزانہ ہزاروں کی بنیاد پر گمشدگی کی رپورٹس درج ہوں گی تو کیا ان کا ادارہ نوٹس نہیں لے گا کیا لا اینڈ ارڈر  کی سچویشن اتنی کمزور ہو چکی ہے ان کا ذمہ دار جب اتنی بڑی تعداد میں رپورٹس  دیکھے گا تو ان سے نہیں پوچھے گاتو یہ بہت برا امپریشن پڑ رہا ہے لوکل اخبارات اس کو رپورٹ کر رہے ہیں سوشل میڈیا پرنٹ میڈیا اس کو رپورٹ کر رہا ہے پولیس کا ادارہ خود مشکل کا شکار ہے کے کام میں بہت بڑا برڈن بڑھ چکا ہے صرف گورنمنٹ اف پاکستان کی عدم دلچسپی  وزارت خارجہ کی عدم دلچسپی اور وزارت داخلہ کی نااہلی پاکستان اور ا سپین میں پاکستانیوں کے لیے بدنامی کا باعث بن رہا ہے میری گزارش ہے ایمرجنسی بنیاد پر اس بات کا نوٹس لیا جائے اس مسئلے کو حل کیا جائے وگرنہ اس کے اثرات ان ا سپین میں مقیم لوگوں پر پڑھیں گے گورنمنٹ اف پاکستان پر پڑھیں گے مستقبل میں ہماری کمیونٹی کے لیے مسائل ہوں گے خدارا سب ذمہ دار ادارے مل کر فورا اس کا تدارک کریں پاسپورٹ اور کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی شرائط اسان کریں اور اپنے شہریوں کی مدد کریں جو بغیر دستاویزات کے یہاں ا سپین میں مقیم ہیں تاکہ وہ اس امیگریشن سے قانونی دستاویزات حاصل کر سکیں اپنے بیوی بچوں اپنے ملک کے لیے روزگار اور قیمتی زمبادلہ کا ذریعہ بن سکیں

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے