چینی ڈاکٹروں کا کارنامہ،سور کے جگر سے انسانی جان بچا لی
Screenshot
شنگھائی: چین کے شہر شی آن میں واقع Hospital Xijing کے ماہرین نے ایک منفرد طبی تجربے میں جینیاتی طور پر ترمیم شدہ سور کے جگر کو انسانی مریض کے جسم سے باہر جوڑ کر اس کی جان بچا لی۔ یہ روایتی پیوندکاری نہیں تھی بلکہ عضو کو بیرونی سرکٹ کے ذریعے مریض کے خون کے نظام سے منسلک کیا گیا، جس نے عارضی طور پر ناکارہ انسانی جگر کی جگہ کام کیا۔
آپریشن کے دوران مریض کو ایک مشین سے منسلک رکھا گیا جبکہ قریب رکھی گئی میز پر سور کا جگر ایک خصوصی پرفیوژن ڈیوائس میں خون کو فلٹر کر رہا تھا۔ تقریباً 66 گھنٹوں تک یہ عضو جسم سے باہر رہتے ہوئے خون کو زہریلے مادوں سے پاک کرتا رہا، پروٹین بناتا رہا اور میٹابولزم کے بنیادی افعال انجام دیتا رہا۔
ڈاکٹروں کے مطابق اس دوران مریض کے جسم میں زہریلے مادوں کی سطح بتدریج کم ہوئی اور جگر کے افعال سے متعلق اہم اشاریے بہتر ہونا شروع ہو گئے۔ تقریباً تین روز بعد مریض کے حیاتیاتی اور کیمیائی اشارے معمول کے قریب پہنچنے لگے اور اس کی حالت مستحکم قرار دی گئی۔
اس تجربے میں استعمال ہونے والے سور کے جگر کے چھ جینز میں تبدیلی کی گئی تھی تاکہ انسانی جسم کے ساتھ مطابقت بہتر ہو اور خون جمنے کے مسائل کم ہوں۔ یہ جینیاتی ترمیم چینی بایوٹیک کمپنی ClonOrgan نے کی۔
چین میں اعضاء کی شدید کمی کے پیش نظر حیوانی اعضاء کی انسانی جسم میں پیوندکاری، جسے زینو ٹرانسپلانٹ کہا جاتا ہے، پر تحقیق تیزی سے جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال مقصد انسانی جگر کا مکمل متبادل فراہم کرنا نہیں بلکہ مریضوں کو فیصلہ کن دن یا ہفتے فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں مستقل پیوندکاری کا موقع مل سکے یا ان کا اپنا عضو بحال ہو جائے۔ تاہم ابتدائی نتائج سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں سور کے جگر بعض طبی حالات میں انسانی جگر کی معاونت یا جزوی جگہ لے سکیں گے۔