ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز اور اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی کے درمیان سفارتی کشیدگی
Screenshot
برسلز میں یورپی یونین کے غیر رسمی اجلاس کے موقع پر اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز اور اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی کے درمیان سفارتی کشیدگی سامنے آئی ہے۔ جرمنی، اٹلی اور بیلجیئم کی جانب سے ایک اہم غیر رسمی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں 16 دیگر رکن ممالک اور یورپی کمیشن کی صدر کو مدعو کیا گیا، تاہم اسپین کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔
یہ اجلاس بیلجیئم کے تاریخی قلعے آلڈن بیسن میں ہونے والی باضابطہ یورپی کونسل میٹنگ سے قبل ایک ہوٹل میں منعقد ہوا، جہاں مستقبل قریب میں یورپی یونین کی سمت سے متعلق اہم امور پر مشاورت کی گئی۔ مدعو ممالک میں جرمنی، اٹلی، فرانس، پولینڈ، نیدرلینڈز، سویڈن اور دیگر شامل تھے، لیکن یورپ کی چوتھی بڑی معیشت اسپین کو نظرانداز کیا گیا۔
اسپین کی حکومت نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا اور اسے یورپی اتحاد کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔ ہسپانوی وفد کے مطابق شکایت اٹلی سے کی گئی، تاہم اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ سانچیز اور میلونی کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اس معاملے پر باضابطہ اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسپین کی داخلی سیاست بھی اس تناؤ کا پس منظر ہے۔ سانچیز حالیہ انتخابات میں سوشلسٹ پارٹی کی کمزور کارکردگی اور ووکس پارٹی کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث دباؤ میں ہیں۔ مبصرین کے مطابق میلونی کو تنقید کا ہدف بنانا سانچیز کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے جس کے تحت وہ خود کو یورپ میں انتہائی دائیں بازو کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب جرمنی اور اٹلی کے درمیان تعلقات میں حالیہ گرمجوشی کو یورپ کے نئے طاقتور اتحاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اطالوی وزیرِاعظم نے “جرمن۔اطالوی موٹر” کے قیام کا عندیہ دیا ہے جو یورپی پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ برلن کو اٹلی کی سیاسی استحکام اور پالیسی ترجیحات پر اعتماد ہے، جبکہ فرانس کی آئندہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے غیر یقینی فضا پائی جاتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت یورپی یونین کے اندر طاقت کے توازن میں تبدیلی اور سانچیز کی سفارتی تنہائی کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جبکہ آنے والے مہینوں میں یہ صف بندی مزید واضح ہو سکتی ہے۔