یورپی کمیشن نے اسپین میں تارکینِ وطن کی اجتماعی ریگولرائزیشن نہیں روکی

Screenshot

Screenshot

برسلز/میڈرڈ (نمائندہ خصوصی)سوشل میڈیا اور بعض ویب سائٹس پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ یورپی کمیشن نے اسپین میں حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے تارکینِ وطن کی غیر معمولی ریگولرائزیشن کے عمل کو “معطل” کر دیا ہے۔ تاہم یہ دعویٰ گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔ یورپی کمیشن کے کسی عہدیدار نے اس عمل کو روکنے کا اعلان نہیں کیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر 11 فروری کو شیئر ہونے والی ایک پوسٹ، جسے دو ہزار سے زائد بار شیئر کیا گیا، میں کہا گیا کہ “یورپی کمیشن نے سانچیز کی جانب سے فروغ دی گئی اجتماعی ریگولرائزیشن کو معطل کر دیا ہے”۔ اس پوسٹ کے ساتھ ایک ویب سائٹ کا لنک بھی منسلک تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ کمیشن نے اس عمل کو روک دیا ہے۔ تاہم دستیاب سرکاری بیانات اس کی تردید کرتے ہیں۔

یورپی کمیشن کے کمشنر برائے داخلہ امور و ہجرت، Magnus Brunner نے 10 فروری کو یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اسپین کے اس اقدام پر بعض تحفظات کا اظہار کیا تھا، لیکن انہوں نے اس عمل کو روکنے یا معطل کرنے کی کوئی بات نہیں کی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہجرت ایک مشترکہ ذمہ داری اور چیلنج ہے جس میں رکن ممالک کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے فیصلوں کے دیگر یورپی ممالک پر منفی اثرات نہ ہوں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قانونی رہائشی اجازت نامہ پورے یورپی یونین میں آزادانہ نقل و حرکت کا مکمل اختیار نہیں دیتا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایسے افراد کی واپسی کو مؤثر اور تیز بنانے کی حمایت کی جو یورپی یونین میں قیام کا حق نہیں رکھتے۔

اس سے قبل 29 جنوری کو بھی ایک پریس کانفرنس میں کمشنر برونر نے واضح کیا تھا کہ رہائش اور قانونی حیثیت کا تعین ہر رکن ملک کی اپنی ذمہ داری ہے۔

یورپی یونین کے معاہدات کے مطابق وہی اختیارات یونین کو حاصل ہیں جو رکن ممالک نے اسے تفویض کیے ہیں، جبکہ دیگر معاملات ریاستوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ہجرت اور پناہ سے متعلق پالیسی “مشترکہ اختیار” کے زمرے میں آتی ہے، تاہم قانونی امیگریشن کے تحت کسی ملک میں داخلے اور قیام کے عملی فیصلے متعلقہ ریاست ہی کرتی ہے۔

یورپی یونین کے معاہدہ برائے عملداری (آرٹیکل 79.5) کے مطابق یہ اختیار رکن ممالک کے پاس ہے کہ وہ طے کریں کتنے غیر یورپی شہریوں کو ملازمت کی غرض سے داخلے کی اجازت دی جائے۔ اسی طرح اسپین کے آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت امیگریشن، ہجرت، شہریت اور پناہ کے امور ریاست کے خصوصی اختیارات میں شامل ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے