یولاندا دیاث کا بائیں بازو کی ازسرِ نو تشکیل پر شخصیات یا برانڈز تک محدود کرنے سے انکار
Screenshot
میڈرڈ: اسپین کی نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ محنت یولاندا دیاث نے کہا ہے کہ بائیں بازو کی ازسرِ نو تشکیل کو “افراد” یا “برانڈز” کے گرد گھمانا ایک “سنگین غلطی” ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل مقصد ملک جیتنا اور عوام کو امید دینا ہے۔
کانگریس کے اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دیاث نے کہا، “یہ معاملہ شخصیات کا نہیں، ملک کو جیتنے کا ہے۔ لوگوں کو امید، حوصلہ اور ٹھوس وجوہات درکار ہیں تاکہ ہم ان کی زندگیاں بدلنے میں مدد دے سکیں۔”
انہوں نے بائیں بازو کے حلقوں میں حالیہ سرگرمیوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی اقدام امید کو وسیع کرے، وہ خوش آئند ہے۔ ان کے مطابق ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ عوام کو متحرک کیا جائے، نہ کہ اندرونی بحثوں میں وقت ضائع کیا جائے۔
دیاث نے 18 فروری کو ای آر سی کے پارلیمانی ترجمان گیبریئل روفیان اور ماس میڈرڈ کے ایمیلیو دیلگادو کے درمیان متوقع ملاقات کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا کہ 18 یا 21 فروری کی کوئی بھی سرگرمی اگر اتحاد اور پیش رفت میں مددگار ہو تو وہ قابلِ ستائش ہے۔
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب سُمار حکومت میں شامل چار جماعتوں ازکئیردا یونیدا، ماس میڈرڈ، کومنس اور موومنتو سُمارنے 2027 کے آئندہ انتخابات کے لیے ایک نئی بائیں بازو کی اتحادی تشکیل پیش کرنے کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں 21 فروری کو میڈرڈ کے سرکولو دے بییاس آرتیس میں ایک تقریب منعقد کی جائے گی۔
موومنتو سُمار کی قیادت نے دیاث کی حمایت کرتے ہوئے انہیں اس سیاسی دھڑے کی بہترین امیدوار قرار دیا ہے، تاہم ازکئیردا یونیدا نئی قیادت کے چہروں کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔ ماس میڈرڈ اور کومنس نے دیاث کی سیاسی خدمات کو سراہا ہے لیکن قیادت کے سوال پر فی الحال محتاط مؤقف اختیار کیا ہے۔