کاتالونیا میں کئی بار جرائم کرنے والوں کے خلاف نیا قانون، سب سے زیادہ متاثرہ خطے میں نمایاں اثرات متوقع

Screenshot

Screenshot

بارسلونا: کاتالونیا میں گزشتہ دو برسوں سے جرائم کی شرح میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نہ صرف پورے خطے بلکہ بارسلونا اور اس کے گرد و نواح کے متعدد شہروں میں بھی جرائم میں واضح کمی آئی ہے۔ اس تبدیلی کا بڑا سبب پی ایس سی کی زیر قیادت علاقائی حکومت کی وہ پالیسی قرار دی جا رہی ہے جس میں کثیر بار جرائم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کو اولین ترجیح بنایا گیا۔

اسی حکمت عملی کے تحت “پلان کانپائی” متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد عادی مجرموں کے خلاف مربوط کارروائی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے موسوس دی اسکوادرا، مقامی پولیس اور عدلیہ کے درمیان تعاون بڑھایا گیا اور ایسے افراد کے خلاف دباؤ میں اضافہ کیا گیا جو چوری اور ڈکیتی کے درجنوں مقدمات میں ملوث رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں املاک کے خلاف جرائم میں بتدریج کمی اور خاص طور پر بارسلونا کے میٹروپولیٹن علاقوں میں پولیس کی موجودگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

تاہم کثیر بار جرائم کا مسئلہ بدستور ایک بڑا چیلنج ہے۔ گزشتہ نومبر تک موسوس دی اسکوادرا نے کاتالونیا میں تقریباً چار ہزار ایسے افراد کی نشاندہی کی تھی جو بارہا جرائم میں ملوث پائے گئے۔ ان میں سے بہت سے افراد تین یا اس سے زیادہ سزائیں پا چکے ہیں اور متعدد مقدمات میں گرفتار بھی ہو چکے ہیں، مگر موجودہ قانونی ڈھانچے کے باعث اکثر جلد رہا ہو جاتے تھے۔ بعض کو ملک بدر کیا گیا، لیکن کئی دوبارہ واپس آ کر جرائم میں ملوث ہو گئے۔

اس صورتحال نے خصوصاً بارسلونا کے مرکز اور مضافاتی علاقوں میں عوامی بے چینی کو بڑھایا، جہاں جیب تراشی اور موبائل فون چوری کے واقعات عام ہیں۔ اسی پس منظر میں بعض سیاسی جماعتوں نے سخت گیر مؤقف اختیار کیا۔ جنتس پر کاتالونیا نے دو سال قبل کانگریس میں ایک بل پیش کیا جس کا مقصد کثیر بار جرائم کے خلاف قانون کو سخت بنانا تھا۔

یہ مسودہ قانون ایک سال سے زائد عرصہ التوا کا شکار رہا۔ مارچ 2024 میں پیش کیے جانے کے بعد پارلیمانی کارروائی میں تاخیر ہوتی رہی، کیونکہ حکومت کے بائیں بازو کے اتحادی اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ بالآخر اس موسم خزاں میں پیش رفت ہوئی جب جنتس نے مرکزی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا اور پی این وی کی ثالثی سے سوشلسٹ پارٹی نے اس قانون کو دوبارہ متحرک کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

نئے قانون کے تحت بار بار املاک کے خلاف جرائم کرنے والوں کے لیے سزاؤں میں سختی کی جا رہی ہے۔ موبائل فون اور ذاتی معلومات رکھنے والے الیکٹرانک آلات کی چوری کو باقاعدہ جرم کی نئی درجہ بندی دی گئی ہے۔ اب ایسے جرائم پر ایک سے تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جب کہ پہلے اکثر ایسے معاملات جرمانے پر نمٹا دیے جاتے تھے۔

مزید یہ کہ اگر کسی ملزم کو کم سنگین چوری یا ڈکیتی کے تین مقدمات میں سزا ہو چکی ہو تو جج مالیت کی حد سے قطع نظر قید کی سزا سنا سکے گا۔ اس طرح 400 یورو کی سابقہ حد عملاً ختم ہو جائے گی جو جرمانے اور قید کے درمیان فرق کا معیار سمجھی جاتی تھی۔ عدالت کو یہ اختیار بھی دیا جا رہا ہے کہ وہ عادی مجرموں کو مخصوص علاقوں میں داخلے سے روک سکے، خاص طور پر تجارتی مراکز یا وہ محلے جہاں جرائم کی شرح زیادہ ہے۔

ایک اور اہم شق کے تحت بلدیاتی ادارے بھی ایسے مقدمات میں فریق بن سکیں گے۔ یہ مطالبہ میٹروپولیٹن علاقوں کے میئرز عرصے سے کر رہے تھے تاکہ مقامی سطح پر امن و امان اور کاروباری سرگرمیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس قانون کی منظوری کے موقع پر مختلف بلدیاتی نمائندوں کی کانگریس میں موجودگی متوقع ہے، جنہوں نے قانون سازی کے عمل میں سختی کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ علاقائی حکومت کا مؤقف ہے کہ پولیس کارروائی کے ساتھ مؤثر قانونی سزائیں ناگزیر ہیں، ورنہ عادی مجرموں کے خلاف کوششیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔

قانون کی کانگریس سے منظوری کے بعد اسے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور توقع ہے کہ یہ موسم گرما سے قبل نافذ العمل ہو جائے گا۔ جنٹس کو امید ہے کہ اس پیش رفت کے بعد قبضہ مافیا کے خلاف ایک اور مجوزہ قانون بھی آگے بڑھے گا، جس کے تحت بغیر قانونی دستاویزات کے قابضین کو 48 گھنٹوں میں بے دخل کیا جا سکے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے