اسپین میں تارکینِ وطن کی آمد کا آبادی اور معیشت پر نمایاں اثرات

Screenshot

Screenshot

بارسلونا: اسپین کی مجموعی آبادی میں مسلسل اضافہ جاری ہے اور ملک کی آبادی اب 4 کروڑ 90 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران آبادی میں تقریباً 4 لاکھ 40 ہزار افراد کا اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ بیرونِ ملک سے آنے والے افراد ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسپین میں بیرونِ ملک پیدا ہونے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ چکی ہے، جبکہ غیر ملکی شہری مجموعی آبادی کا 14.6 فیصد بن چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد نے نہ صرف آبادی کے ڈھانچے بلکہ لیبر مارکیٹ پر بھی نمایاں اثر ڈالا ہے۔ فیڈیا (Fedea) کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2000 کے بعد سے اسپین میں آبادی کے تناسب کو نسبتاً جوان رکھنے میں مہاجرین کا اہم کردار رہا ہے۔ ان کی آمد سے روزگار کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسپین آنے والے غیر ملکیوں کی اکثریت روزگار کے حصول کے لیے آتی ہے۔ ان کی شرحِ فعالیت، یعنی کام کرنے کی عمر کے افراد میں سے لیبر مارکیٹ میں شامل لوگوں کا تناسب، مقامی آبادی کے مقابلے میں تقریباً 15 پوائنٹس زیادہ ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ملکی معیشت پر پڑ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب کسی ملک میں کام کرنے کی عمر کے افراد کی تعداد مجموعی آبادی کے مقابلے میں تیزی سے بڑھتی ہے تو اسے “ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ” کہا جاتا ہے، جو معاشی ترقی اور فلاحی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ اسپین میں شرحِ پیدائش میں کمی اور اوسط عمر میں اضافے کے باعث آبادی تیزی سے بوڑھی ہو رہی ہے، جسے معیشت کے لیے ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ تاہم مہاجرین کی آمد اس منفی رجحان کو تقریباً 60 فیصد تک کم کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر تارکینِ وطن کی آمد نہ ہوتی تو کام کرنے کی عمر کی آبادی کا تناسب کہیں زیادہ تیزی سے کم ہوتا اور معاشی ترقی کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی۔

مستقبل کی پیش گوئیاں بھی اسی رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آنے والے برسوں اور دہائیوں میں اسپین کے لیے مہاجرت کلیدی حیثیت رکھے گی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے مثبت اثرات کا انحصار صرف آمد پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ نئے آنے والوں کو لیبر مارکیٹ میں کس حد تک مؤثر انداز میں ضم کیا جاتا ہے، ان کی تعلیمی و پیشہ ورانہ صلاحیتیں کیا ہیں اور مجموعی پیداواری صلاحیت میں کتنا اضافہ کیا جاتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے