جرمنی فرینکفرٹ/پرتگال/لسابون۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پرتگال کے صد ر انتو نیو جوز سیگورو نے عوامی مقامات پر چہرہ مکمل طور پر ڈھانپنے پر پابندی عائد کرنے والے قانون کی توثیق کی ہے، منگل کو ایک بیان میں کہا، چہرے کو انسانی شناخت اور رابطے کا مرکزی عنصر سمجھا جانا چاہیء، قانون کو پرتگال میڈیا میں ٭برقعہ قانون٭کہا جا رہا ہے، کیونکہ اس کا سب سے نمایاں اثر برقعہ یا نقاب پہننے والی مسلم خواتین پر پڑ سکتا ہے۔ واضح رہے قانون کو پارلیمان نے جولائی 2026 میں دائیں بازو کے حکومتی اتحاد اور انتہائی دائیں بازو کے ارکان کی حمایت سے منظور کیا، جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں نے مخالفت کی، پابندی صرف مذہبی لباس تک محدود نہیں، ایسے لباس سے بھی روکا گیا ہے جو عوامی جگہوں پر چہرہ چھپانے یا شناخت روکنے کے لئے استعمال ہو۔ کسی دوسرے شخص کو اس کی مرپی کے خلاف مذہب، جنس، عمر یا پیدائش کی جگہ جیسے عوامل کی بنیاد پر چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ خلاف ورزی پر(ایک سو پچاس 150 سے تین ہزار 3,000) یورو تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ صحت۔ پیشہ ورانہ یا فنکارانہ ضرورت۔ موسم۔ عبادت گاہوں۔ سفارتی مشنذ اور ہوائی جہازوں کے لئے استثنا رکھا گیا ہے۔ صدر نے تسلیم کیا کہ یہ معاملہ سماجی اور ثقافتی طور پر انتہائی حساس ہے، جبکہ حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ لباس پر ایسی پابندیاں بالخصوص خواتین کی آزادی اور حقوق کو متاثر کرتی ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ قانون کا متن عمومی طور پر چہرہ چھپانے پر پابندی لگاتا ہے، لیکن اس کے عملی اور سیاسی اثرات کا سب سے زیادہ تعلق نقاب یا برقعہ پہننے والی مسلم خواتین سے جوڑا جا رہا ہے
