پیرس/ فرانس کی آئینی کونسل نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے والے قانون کی اہم ترین شق کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ قانون کی موجودہ شکل آزادیٔ اظہار پر ’’غیر متناسب‘‘ پابندی عائد کرتی ہے اور بچوں کی رازداری کے تحفظ کے لیے بھی مناسب قانونی ضمانتیں فراہم نہیں کرتی۔
فرانسیسی پارلیمنٹ نے گزشتہ ماہ ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس قانون کو یورپ میں اپنی نوعیت کی ایک اہم قانون سازی قرار دیا گیا تھا۔
آئینی کونسل نے تسلیم کیا کہ بچوں کے بہترین مفاد اور ان کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کیا جا سکتا ہے، تاہم عدالت کے مطابق تمام بچوں پر یکساں اور عمومی پابندی عائد کرنا مناسب نہیں۔ عدالت نے کہا کہ قانون میں بچے کی عمر، ذہنی پختگی، خاندانی حالات اور ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے وابستہ مخصوص خطرات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔
عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آزادیٔ اظہار جمہوریت کی بنیادی ضمانت ہے۔ ریاست بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے اقدامات کر سکتی ہے، لیکن ایسے اقدامات بنیادی حقوق کے متناسب ہونے چاہئیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فیصلے کے بعد وزیراعظم سباستیاں لیکورنو کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئینی کونسل کے اعتراضات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون کا نیا اور قانونی طور پر مضبوط مسودہ تیار کریں۔
ایوانِ صدر کے مطابق حکومت کا مقصد مئی 2027 میں میکرون کی موجودہ مدت ختم ہونے سے پہلے بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ نقصانات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اصل قانون میں وکی پیڈیا، اوپن سورس سافٹ ویئر اور بعض تعلیمی پلیٹ فارمز کو پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا، جبکہ عمر کی تصدیق کا نظام تیار کرنے کی ذمہ داری متعلقہ سوشل میڈیا کمپنیوں پر عائد کی گئی تھی۔
