Screenshot
سیوتا اور ملیلیا کی سرحدوں پر ہفتے کے روز سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے اور دونوں علاقوں میں ہائی الرٹ برقرار رہا۔ اس دوران مراکش نے سیکڑوں تارکینِ وطن کی سیوتا میں غیر قانونی داخلے کی کوشش ناکام بنا دی۔
ہسپانوی شہر سیوتا کی سرحد پر دن بھر مجموعی طور پر صورتحال پُرسکون رہی، جس کی بڑی وجہ اسپین اور مراکش کی جانب سے کیے گئے بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات ہیں۔ تاہم ہفتہ 15 اگست کو ایک موقع پر کشیدگی پیدا ہوئی، جب مراکش سے تارکینِ وطن کے ایک بڑے گروپ نے سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
مراکشی سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں منتشر کیا، متعدد افراد کو روکا اور گرفتار کیا۔ مراکشی حکام کے مطابق 148 تارکینِ وطن کو روکا گیا، جن میں زیادہ تر سب صحارا افریقہ سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ 61 افراد کو غیر قانونی ہجرت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
ہسپانوی جانب گواردیا سول اور نیشنل پولیس کے بڑی تعداد میں اہلکار تعینات ہیں۔ ان میں گواردیا سول کے GRS اور GAR جبکہ نیشنل پولیس کے UIP اور UPR یونٹس بھی شامل ہیں، جو کسی بھی بڑے پیمانے پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کی صورت میں فوری کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
مراکش نے بھی سیوتا کے قریب کاستیلیخوس (Castillejos) اور سرحدی علاقوں میں بھاری پولیس اور سکیورٹی نفری تعینات کر رکھی ہے۔
یہ غیر معمولی نگرانی ان سوشل میڈیا پیغامات کے بعد کی جا رہی ہے جن میں 15 اگست کو سیوتا پہنچنے کی کوشش کرنے کی اپیلیں کی گئی تھیں۔ اس سے قبل 30 جولائی کو سیوتا میں بڑے پیمانے پر تارکینِ وطن کی آمد ہوئی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک نے سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔
سیوتا میں ہسپانوی حکومت کے نمائندے میگوئل اینخیل پیریز تریانو نے رات کے دوران سرحدی علاقے کا دورہ کیا اور تاراخال سرحدی گزرگاہ پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔
ملیلیا میں بھی صورتحال پُرسکون رہی، تاہم شہر میں پولیس کی نمایاں موجودگی برقرار ہے۔ اسپین کی وزارت داخلہ نے ملیلیہ میں زمین، سمندر اور فضا کے ذریعے نگرانی کے لیے تقریباً 150 اضافی پولیس اور گواردیا سول اہلکار تعینات کیے ہیں۔
ان میں گواردیا سول کے GRS کے تین گروپ شامل ہیں، جن میں ہر گروپ میں 18 اہلکار اور ایک سارجنٹ ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل پولیس کے UIP یونٹ کے 50 اہلکار بھی موجود ہیں۔
سمندری نگرانی کے لیے گواردیا سول کا گشتی جہاز Río Segura بھی ملیلیہ پہنچا ہے، جس پر 25 افراد کا عملہ موجود ہے۔ اس کے ساتھ NIR اور GEAS کے خصوصی دستے بھی سمندری نگرانی اور ریسکیو کے لیے کام کر رہے ہیں۔
فضائی نگرانی کے لیے مالاگا سے گواردیا سول کا ایک ہیلی کاپٹر بھی ملیلیا پہنچایا گیا ہے، جس کا عملہ چار افراد پر مشتمل ہے۔
مراکشی سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز سیکڑوں تارکینِ وطن نے سیوتا کی سرحد تک پہنچنے کی کوشش کی۔ یہ افراد سرحدی شہر کاستیلیخوس کے مضافات میں پہاڑی علاقے میں چھپے ہوئے تھے۔
مراکشی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا۔ حکام کے مطابق 148 افراد کو روکا گیا اور 61 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
کاستیلیخوس شہر میں بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور شہر میں داخل ہونے والی اہم سڑکوں پر ناکے اور چیکنگ جاری ہے، خاص طور پر تطوان اور طنجہ سے آنے والی سڑکوں پر۔
دوسری جانب سیوتا کے Trampolín ساحل پر تارکینِ وطن کی جانب سے بنایا گیا عارضی کیمپ مسلسل پھیل رہا ہے اور وہاں اب 80 سے زیادہ جھونپڑیاں قائم ہو چکی ہیں۔
ایک 17 سالہ نوجوان خاتون تارکِ وطن، جو ان چند افراد میں شامل ہے جو حالیہ دنوں میں سیوتہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے، نے بتایا کہ وہ رات کے وقت تطوان سے کاستیلیخوس پہنچی۔ اس کے مطابق تقریباً 35 کلومیٹر کے اس سفر کے دوران بس کو تین مختلف سکیورٹی ناکوں پر روکا گیا۔
