Screenshot
سورج گرہن کے دوران براہِ راست سورج کی طرف دیکھنے سے آنکھوں کی بینائی کو شدید اور بعض صورتوں میں ناقابلِ واپسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ماہرینِ امراضِ چشم نے خبردار کیا ہے کہ گرہن دیکھنے کے بعد آنکھوں میں کسی بھی قسم کی غیر معمولی علامت ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر ماہرِ چشم سے رجوع کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق سورج سے نکلنے والی تیز روشنی، بالائے بنفشی اور دیگر شعاعیں آنکھ کے پردۂ بصارت یعنی ریٹینا کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس نقصان کو سولر ریٹینوپیتھی کہا جاتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ ریٹینا میں درد محسوس کرنے والے اعصاب موجود نہیں ہوتے، اس لیے سورج کو دیکھتے وقت آنکھ میں درد نہ ہونا اس بات کی علامت نہیں کہ آنکھ محفوظ ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق نقصان کی علامات عام طور پر پہلے 12 گھنٹوں کے دوران سامنے آ سکتی ہیں، تاہم بعض افراد میں یہ 24 سے 48 گھنٹے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔
سولر ریٹینوپیتھی کی اہم علامات میں مرکزی بینائی میں کمی، دھندلا نظر آنا، آنکھوں کے سامنے دھبے دکھائی دینا، چیزوں کا بگڑی ہوئی شکل میں نظر آنا، سیدھی لکیروں کا ٹیڑھا یا لہراتی ہوئی محسوس ہونا اور رنگوں کی شدت میں کمی شامل ہیں۔
کاتالونیا کی ایمرجنسی میڈیکل سروس SEM کے مطابق گرہن سے متعلق واقعات میں 109 افراد کو طبی امداد دی گئی، جن میں 40 افراد آنکھوں کی تکالیف کا شکار تھے۔ آنکھوں سے متعلق ہنگامی کیسز ہسپتالوں کی مجموعی ایمرجنسی سرگرمی کا تقریباً 2 فیصد رہے۔
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ سورج گرہن دیکھنے کے لیے صرف منظور شدہ حفاظتی چشموں کا استعمال کریں۔ اگر گرہن کے بعد بینائی میں معمولی سی بھی تبدیلی محسوس ہو تو انتظار کرنے کے بجائے جلد از جلد آنکھوں کا معائنہ کروایا جائے۔
