اوئسکا، اسپین/ آراگون کے علاقے لاس پیئناس دے ریگلوس میں پیر 10 اگست سے بھڑکنے والی شدید جنگلات کی آگ مسلسل پھیل رہی ہے اور اب تک تقریباً 10 ہزار ہیکٹر رقبہ جل چکا ہے۔ آگ کے باعث تاریخی سان خوان دے لا پینیا خانقاہ کو بھی خطرہ لاحق ہے، جس کے تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی اور فائر فائٹنگ آپریشن جاری ہے۔
آراگون کے صدر خورخے آزکون نے جمعہ کو کہا کہ آگ پر قابو پانے کے لیے ’’اب تک کے سب سے زیادہ وسائل‘‘ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ آگ کی شدت کے باعث اب تک 16 آبادیوں سے 855 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ تازہ ترین انخلا میں سانتا ماریا دے لا پینیا، تریستے، لا پینیا اسٹیشن اور ییستے کے رہائشی شامل ہیں۔
حکام نے انزانئیگو اور سانتا ثیلیا دے خاکا سمیت مزید علاقوں کو بھی ممکنہ انخلا کے لیے تیار رکھا ہے۔ انزانئیگو میں نوجوانوں کے ایک کیمپ سے 19 کم عمر بچوں اور 5 مانیٹرز کو بھی احتیاطاً منتقل کر دیا گیا ہے۔
تاریخی سان خوان دے لا پینیا خانقاہ کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ UME، سول پروٹیکشن اور ثقافتی ورثے کے ماہرین نے خانقاہ کی قیمتی تاریخی اشیا کو پہلے ہی اوئسکا میوزیم منتقل کر دیا ہے تاکہ انہیں آگ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
آگ بجھانے کے لیے اس وقت 35 فضائی وسائل اور تقریباً 500 زمینی اہلکار تعینات ہیں، جبکہ فرانس سے مزید تین فضائی ذرائع بھی پہنچ رہے ہیں۔ اسپین کی ایمرجنسی ملٹری یونٹ UME کے 440 فوجی اہلکار اور 125 گاڑیاں بھی آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔
حکام کو شمالی اور شمال مشرقی محاذوں پر اب بھی شدید تشویش ہے، تاہم موسم میں تبدیلی سے کچھ امید پیدا ہوئی ہے۔ AEMET کے مطابق ہفتے کے آخر میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی اور طوفانی بارشوں کا امکان ہے، جو آگ پر قابو پانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
آگ کے باعث علاقے کی متعدد اہم سڑکیں بھی بند ہیں اور حکام نے شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
