کاتالونیا میں مہاجرین کی ریگولرائزیشن: حکومت اور تنظیمیں تعاون اور معلومات فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہیں،ڈائریکٹر امیگریشن کاتالونیا

IMG_E2409

بارسلونا(دوست نیوز)وائس آف پاکستانی کمیونٹی کے پلیٹ سے ڈائریکٹر امیگریشن کاتالونیا دیود مویا سے راجہ شفیق الرحمن،خالد شہباز چوہان،سید ذوالقرنین شاہ اور طاہر رفیع نےان کے دفتر میں ملاقات کی،تفصیلی ملاقات میں پاکستانی کمیونٹی کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز پراپوگینڈا اور پولیس یونین کی جانب سے حقائق مسخ کرنے اور مہاجرین کی ریگولرائزیشن پر ڈیڑھ گھنٹہ بات چیت کی گئی کاتالونیامیں مہاجرین کی ریگولرائزیشن کے عمل کے دوران حکومت اور مقامی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ لوگوں تک درست اور تصدیق شدہ معلومات پہنچیں اور غیر رسمی یا جھوٹی خبروں کے اثرات کم کیے جائیں۔ مقامی حکام کے مطابق، اس عمل میں خصوصی توجہ اس بات پر دی جا رہی ہے کہ مہاجر کمیونٹی کو قانونی حیثیت حاصل کرنے اور بعد میں اس کی تجدید کے دوران مشکلات کم ہوں۔

گورنمنٹ اور مقامی ادارے، جیسے جینرالیتات اور بلدیات، معتبر معلوماتی مراکز قائم کر رہے ہیں جہاں لوگ رجسٹریشن، قانونی رہنمائی اور دیگر ضروری سہولتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ ان مراکز میں تکنیکی عملے اور تنظیموں کی رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ درخواست دہندگان کو درست طریقے سے مشورہ اور رہنمائی دے سکیں۔

اطلاعاتی مواد مختلف زبانوں میں دستیاب ہوگا، جس میں اردو، کاتالان اور ہسپانوی شامل ہیں، اور انہیں آڈیو اور ویڈیو فارمیٹس میں بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ لوگ جو اپنی مادری زبان میں پڑھنے سے قاصر ہیں، معلومات تک پہنچ سکیں۔ اس مواد کو WhatsApp، سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کے ذریعے بھی شیئر کیا جائے گا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ خود سے معلومات حاصل کر سکیں اور مرکزی نظام پر دباؤ نہ پڑے۔

گورنمنٹ کی طرف سے ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ کے حصول پر بھی کام جاری ہے، جو کہ پلیٹ فارم Mercurio کے ذریعے درخواست کے عمل کو آسان بنائے گا۔ افراد اپنی درخواست اور دستاویزات خود اپ لوڈ کر سکیں گے، جس سے کاغذی کارروائی کی وجہ سے 30–40 دن کے اضافی انتظار سے بچا جا سکے گا۔

مزید یہ کہ، ریگولرائزیشن کے بعد کی مدد (post-regularització) کے لیے ایک سال تک سوشل تنظیمیں رہنمائی فراہم کریں گی، جیسے استقبال، زبان کی تربیت اور SOC کے ساتھ رہنمائی، تاکہ لوگ اپنی قانونی حیثیت کی تجدید کھو نہ دیں۔ اس عمل میں وکلاء کے توسط سے فیس کے معیار کو بھی شفاف بنایا جائے گا تاکہ کسی سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ عمل صرف رسمی اجازت دینے تک محدود نہیں ہے۔ درخواست دینے کے وقت ہی افراد کام کرنے کی اجازت حاصل کر سکیں گے، اور مختلف طریقوں سے رہائش کا ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے، جیسے empadronament یا دیگر قابل قبول دستاویزات۔

مقامی حکام کے مطابق، مجموعی طور پر اس عمل کا مقصد یہ ہے کہ غیر قانونی حیثیت میں موجود زیادہ سے زیادہ افراد کو قانونی راستے پر لایا جائے، اور انہیں مکمل رہنمائی اور معاونت فراہم کی جائے، تاکہ انہیں معلوماتی خلا، جھوٹی خبروں اور نظامی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے