اسپین میں تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن کے عمل میں دھوکہ دہی کا خدشہ، ماہرین کی وارننگ
Screenshot
بارسلونا میں جاری تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن کے عمل کے دوران ممکنہ فراڈ اور دھوکہ دہی کے واقعات پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکام کے مطابق بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث انتظامی نظام شدید دباؤ یا “کولپس” کے قریب پہنچ رہا ہے، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض گروہ سادہ لوح افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
کالج آف ایڈمنسٹریٹو منیجرز کے نمائندے مارک خیمنیز باخمان کے مطابق جہاں بھی مشکلات بڑھتی ہیں وہاں مافیا سرگرم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فراڈ کے زیادہ تر کیسز اپائنٹمنٹ لینے، کمزوری (vulnerability) کی رپورٹ جمع کروانے، یا جعلی قانونی مشیروں کے ذریعے سامنے آ رہے ہیں جو خود کو مستند ظاہر کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی بلدیاتی اداروں کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ درخواستوں کے اس بڑے حجم کو سنبھال سکیں، جس کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
اسی تناظر میں ماہرین نے سختی سے مشورہ دیا ہے کہ درخواست گزار صرف مستند اور رجسٹرڈ وکلاء یا پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کریں، تاکہ قانونی عمل درست طریقے سے مکمل ہو سکے اور کسی قسم کے فراڈ سے بچا جا سکے۔
بار ایسوسی ایشن (ICAB) سے وابستہ ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ریگولرائزیشن کا موجودہ عمل، جو 30 جون کو ختم ہو رہا ہے، اس میں چند ماہ کی توسیع کی جانی چاہیے تاکہ درخواست گزار سکون کے ساتھ اپنی دستاویزات مکمل کر سکیں اور لمبی قطاروں سے بھی بچا جا سکے۔