البرتو نونیز فیخو نے ووکس کے مؤقف کی تردید کر دی، کہا عوامی خدمات میں ہسپانویوں کو ترجیح نہیں دی جائے گی

Screenshot

Screenshot

اسپین میں اپوزیشن جماعت پاپولر پارٹی کے سربراہ البرتو نونیز فیخو نے انتہاپسند جماعت ووکس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ ایک نئے معاہدے کے تحت عوامی سہولیات تک رسائی میں ہسپانوی شہریوں کو غیر ملکیوں پر ترجیح دی جائے گی۔

یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب María Guardiola کو ایک معاہدے کے تحت ایکستریمادورا کی صدر بنانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، اور ووکس کو اس کی حمایت میں ووٹ دینا ہے۔

فیخو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں “قومی ترجیح” کا مطلب شہریت نہیں بلکہ مقامی وابستگی (arraigo)، رہائش اور اس علاقے میں گزارے گئے وقت کو مدنظر رکھنا ہے، چاہے کسی کی قومیت کچھ بھی ہو۔

دوسری جانب ووکس کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ہسپانوی شہریوں کو غیر ملکیوں، چاہے وہ قانونی طور پر مقیم ہوں یا غیر قانونی، پر فوقیت حاصل ہوگی۔

مزید برآں، ووکس نے کانگریس میں ایک تجویز بھی پیش کی ہے جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام تارکین وطن کو واپس بھیجا جائے۔

ووکس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت تارکین وطن کے ساتھ کام کرنے والی بعض غیر سرکاری تنظیموں، حتیٰ کہ چرچ سے وابستہ اداروں کی امداد بھی بند کی جا سکتی ہے، جس پر دائیں بازو کے بعض حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

فیخو نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام فیصلے آئین اور قانون کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے