برطانیہ میں 2009 کے بعد پیدا ہونے والوں پر زندگی بھر تمباکو نوشی کی پابندی کا فیصلہ

Screenshot

Screenshot

برطانیہ کی پارلیمنٹ نے ایک تاریخی قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت یکم جنوری 2009 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو زندگی بھر سگریٹ، ویپ اور نکوٹین مصنوعات خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس قانون کو یوکے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، ہاؤس آف کامنز اور ہاؤس آف لارڈز، سے منظوری مل چکی ہے اور اب اسے نافذ ہونے کے لیے شاہی توثیق درکار ہے۔

نئے قانون کے مطابق حکومت تمباکو، ویپنگ اور نکوٹین سے متعلق تمام مصنوعات، ان کے ذائقوں اور پیکجنگ سمیت، ان افراد کو فروخت کرنے پر پابندی عائد کرے گی جو اس وقت 17 سال سے کم عمر ہیں۔ اس اقدام کا مقصد تمباکو نوشی کے مضر اثرات کو کم کرنا ہے، جو ملک میں اموات، معذوری اور بیماری کی بڑی قابلِ بچاؤ وجوہات میں شامل ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد ایک “اسموک فری جنریشن” تشکیل دینا ہے تاکہ مستقبل میں تمباکو نوشی تقریباً ختم ہو جائے۔

اس کے علاوہ نئی قانون سازی کے تحت بچوں کو لے جانے والی گاڑیوں، بچوں کے کھیل کے میدانوں، اسکولوں کے اطراف اور ہسپتالوں کے قریب ویپنگ بھی ممنوع ہوگی۔ تاہم ہسپتالوں کے باہر محدود پیمانے پر ویپنگ کی اجازت برقرار رہے گی تاکہ وہ افراد جو سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، مدد حاصل کر سکیں۔

برطانوی وزیرِ صحت Wes Streeting نے اس اقدام کو ایک “تاریخی پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون نہ صرف جانیں بچائے گا بلکہ قومی صحت کے نظام پر دباؤ بھی کم کرے گا۔ جبکہ وزیرِ صحت Gillian Merron کے مطابق یہ ایک نسل میں صحتِ عامہ کے حوالے سے سب سے بڑا قدم ہے۔

دوسری جانب بعض سیاستدانوں نے اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے تعلیم اور آگاہی زیادہ مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے، نہ کہ مکمل پابندیاں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے