لیلیدا میں عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی کی تجویز
Screenshot
لیلیدا کی میونسپل حکومت نے عوامی مقامات اور بلدیاتی دفاتر میں برقع اور نقاب پر پابندی کی نئی تجویز پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تجویز جون میں ہونے والے بلدیاتی اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ مجوزہ ضابطۂ اخلاق کے مطابق چہرہ ڈھانپنے والی ہر قسم کی پوشاک پر پابندی ہوگی، اور خلاف ورزی کرنے والوں پر 400 سے 750 یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
بلدیہ کے مطابق، اس شق میں واضح کیا گیا ہے کہ “ایسی کوئی بھی پوشاک، لباس یا اشیاء جو عوامی مقامات پر چہرہ چھپائیں، ممنوع ہوں گی۔” یہ اعلان میئر فیلکس لارسہ نے کیا۔ تاہم اس پابندی کا اطلاق عبادت گاہوں، اور ایسے مقامات پر نہیں ہوگا جہاں سماجی روایات کے مطابق چہرہ ڈھانپنا عام ہو، یا جہاں یہ کسی بنیادی حق کے استعمال کے تحت ہو۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سکیورٹی کے بجائے شہری تہذیب اور خواتین کے حقوق کے تناظر میں اٹھایا جا رہا ہے۔
بلدیہ کی نائب میئر اور فیمینزم کی کونسلر کارمے ویلز کے مطابق، اس کے ساتھ ایک سماجی و تعلیمی منصوبہ بھی شامل ہوگا، جس کا مقصد خواتین کو زیادہ خودمختاری دینا، سماجی روابط بڑھانا، وسائل تک رسائی بہتر بنانا اور شہر میں اعتماد اور شمولیت کو فروغ دینا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ لیلیدا نے 2010 میں بھی اسپین میں پہلی بار بلدیاتی سطح پر برقع اور نقاب پر پابندی کی کوشش کی تھی۔ تاہم اس وقت یہ ضابطہ ایک اسلامی تنظیم واتانی کی جانب سے عدالت میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا تھا، کیونکہ عدالت کے مطابق بلدیاتی حکومتیں بنیادی حقوق کو محدود کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔