بارسلونا میں امیگریشن امور پر اہم پیش رفت، پاکستانی کمیونٹی کے لیے سہولیات میں بہتری کا اعلان

IMG_6412

بارسلونا (20 اپریل 2026) کاتالونیا کی وزارت برائے سماجی حقوق اور شمولیت کے تحت امیگریشن و مہاجرین کے ڈائریکٹر جنرل جناب ڈیوڈ مویا مالاپیرا کے ساتھ ایک اہم اور تفصیلی اجلاس منعقد ہوا، جس میں قونصل جنرل، سیکرٹری برائے امیگریشن محترمہ پاز پیریز مارٹن اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد امیگریشن کے موجودہ نظام کا جائزہ لینا اور پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔

اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل نے امیگریشن کے جاری طریقہ کار، نئی اصلاحات اور مستقبل کی پالیسیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد نظام کو زیادہ شفاف، تیز اور آسان بنانا ہے تاکہ درخواست دہندگان کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

قونصل جنرل نے اجلاس میں پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ (CNIC) اور کریکٹر سرٹیفکیٹ کے اجرا کے موجودہ طریقہ کار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے کریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول میں کئی انتظامی مراحل شامل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات درخواست دہندگان مقررہ مدت میں دستاویز حاصل نہیں کر پاتے۔ اس پر درخواست کی گئی کہ ایسے افراد جنہوں نے عمل شروع کر دیا ہو لیکن 30 جون تک سرٹیفکیٹ حاصل نہ کر سکیں، انہیں خصوصی رعایت دی جائے۔

ڈائریکٹر جنرل نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جو درخواست دہندگان قونصلیٹ کی طرف سے جاری کردہ اس بات کی تصدیق جمع کرائیں گے کہ ان کا عمل جاری ہے، انہیں 30 جون کے بعد مزید تین ماہ کی رعایتی مدت دی جائے گی تاکہ وہ مطلوبہ دستاویز مکمل کر سکیں۔

اجلاس میں “Informe de Vulnerabilidad” کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی۔ ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ اس رپورٹ کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ایک سادہ فارم متعارف کرایا جا رہا ہے جسے درخواست دہندہ خود بھر سکے گا اور اسے سماجی ادارے، بلدیاتی دفاتر، این جی اوز اور دیگر تسلیم شدہ تنظیمیں تصدیق کریں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام خدمات مفت فراہم کی جائیں گی۔

رہائش کے ثبوت کے حوالے سے بھی وضاحت دی گئی کہ پادرون کے علاوہ دیگر سرکاری دستاویزات جیسے طبی یا ٹرانسپورٹ ریکارڈ بھی قابل قبول ہوں گے۔

اجلاس کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل نے قونصلیٹ کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور ڈیجیٹل نظام اور ڈیٹا کی درستگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

مزید برآں، پولیس ریکارڈ کلیئرنس اور ہاؤسنگ رپورٹ کے مسائل بھی زیر بحث آئے۔ ڈائریکٹر جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ ان دونوں امور میں اصلاحات جاری ہیں اور وقت کو 6-8 ماہ سے کم کر کے 1-2 ماہ تک لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مجموعی طور پر اجلاس کو انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ بھی قریبی رابطہ رکھا جائے گا تاکہ پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے