یورپی یونین کے رکن ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معاہدے کو معطل کرنے کےلئے ہمت دکھائیں،اسپین
Screenshot
ہسپانوی وزیر خارجہ خوسے مینوئل البارئیس نے یورپی یونین کے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معاہدے کو معطل کرنے کے اسپین کے مؤقف کی حمایت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات برقرار نہیں رکھے جا سکتے، کیونکہ وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث رہی ہے۔ اسی لیے اسپین، آئرلینڈ اور سلووینیا نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ Kaja Kallas کو خط لکھ کر اس معاہدے کی معطلی پر غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
الباریس کے مطابق اس فیصلے کے لیے یورپی یونین کے تمام 27 ممالک کی متفقہ رائے درکار ہوگی، اس لیے یہ فوری طور پر نہیں ہوگا بلکہ ایک عمل کے تحت آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک آپشن مکمل معطلی ہے، جبکہ دوسرا صرف تجارتی حصے کی معطلی ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے تمام ممالک اصولی طور پر اسپین سے متفق ہیں، لیکن اب انہیں اپنے اقدار کے مطابق عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی ملک کے لیے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی ایسی کھلی خلاف ورزیوں کو قبول کرنا ممکن نہیں ہونا چاہیے۔
الباریس نے اسرائیل کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ نہ سمجھے کہ سب کچھ معمول کے مطابق چل سکتا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں ایسا ممکن نہیں۔
انہوں نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ وہاں بھی وہی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے جو غزہ میں استعمال کی گئی تھی، جس میں شہری انفراسٹرکچر کی تباہی اور آبادی کو بے دخل کرنا شامل ہے، جو بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب، انہوں نے ایران کو بھی مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ موجودہ بحران کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔ ان کے مطابق امریکہ اور ایران دونوں کو بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس صدی کا سب سے بڑا عالمی بحران ہے اور اس کا حل صرف مذاکرات میں ہی ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ اسپین کسی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا، اور یہ راستہ تمام ممالک کے جہازوں کے لیے محفوظ اور آزاد رہنا چاہیے۔