اسپین میں ایندھن سستا، فرانسیسی ڈرائیوروں کا رش 22 فیصد بڑھ گیا

Screenshot

Screenshot

اسپین کی جانب سے ایندھن پر وی اے ٹی (VAT) میں کمی کے بعد سرحدی قصبے لا جونکیرا میں فرانسیسی ڈرائیوروں کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک ماہ کے اندر فرانسیسی گاڑیوں کی آمد میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں پہلے بھی زیادہ تر گاہک فرانس سے آتے تھے، تاہم ایران جنگ کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اسپین میں ٹیکس میں کمی نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اب ڈرائیور نہ صرف قریبی علاقوں بلکہ دور دراز شہروں سے بھی ایندھن بھرانے کے لیے اسپین کا رخ کر رہے ہیں۔

مقامی پٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ طلب میں اچانک اضافے کے باعث سپلائی آرڈرز میں تبدیلی کرنا پڑی، تاہم کسی قسم کی قلت کا سامنا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ابتدائی اضافے کے بعد قیمتیں کسی حد تک مستحکم ہو چکی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گاڑیوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود فی گاڑی خریدے جانے والے ایندھن کی مقدار میں تقریباً 4 فیصد کمی آئی ہے، جس کی وجہ مجموعی قیمتوں میں اضافہ اور صارفین کی محتاط خریداری کو قرار دیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں واضح فرق کی وجہ سے سرحد پار آنا اب بھی فائدہ مند ہے۔ بعض کے مطابق فی لیٹر قیمت میں 50 سے 60 سینٹ تک فرق موجود ہے، جبکہ کچھ لوگ دو سے ڈھائی گھنٹے کا سفر طے کر کے بھی یہاں ایندھن خریدنے آ رہے ہیں۔

ڈرائیوروں نے فرانسیسی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی ایندھن پر ٹیکس کم کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں اسپین جانا نہ صرف سستا بلکہ ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے