اسپین میں تارکینِ وطن کی رجسٹریشن: ڈاکخانوں میں سکون، این جی اوز کے باہر طویل قطاریں
Screenshot
میڈرڈ: اسپین میں تارکینِ وطن کی قانونی حیثیت کے لیے جاری رجسٹریشن عمل کے دوران دلچسپ صورتحال دیکھنے میں آئی ہے، جہاں ایک طرف ڈاکخانوں (Correos) میں غیر معمولی سکون ہے، وہیں دوسری جانب این جی اوز کے دفاتر کے باہر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پیر کے روز Comisión Española de Ayuda al Refugiado (CEAR) اور Tierra Solidaria جیسے اداروں کے دفاتر کے باہر تارکینِ وطن کی بڑی تعداد جمع رہی، جو اپنی قانونی حیثیت کو باقاعدہ بنانے کے حوالے سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرتے رہے۔ بعض افراد کو پانچ گھنٹے تک قطار میں کھڑا رہنا پڑا۔
قطار میں کھڑی 24 سالہ کولمبین شہری ہیلری نے بتایا کہ وہ ایک سال سے اسپین میں مقیم ہیں اور بہتر مستقبل کی تلاش میں آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قانونی حیثیت حاصل کرکے نہ صرف سکون سے زندگی گزارنا چاہتی ہیں بلکہ تعلیم بھی جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ ان کی ساتھی نایلی نے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم بات قانونی طور پر کام کرنا اور سوشل سیکیورٹی میں حصہ ڈالنا ہے۔
اسی طرح مراکش سے تعلق رکھنے والے 46 سالہ محمد نے بتایا کہ وہ سات ماہ سے اسپین میں ہیں اور غیر قانونی حیثیت کے باعث مستقل روزگار حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی کبھار جز وقتی کام کرکے گزارا کرتے ہیں۔
دوسری جانب ڈاکخانوں میں صورتحال اس کے برعکس رہی، جہاں بہت کم لوگ درخواستیں جمع کروانے کے لیے پہنچے۔ میڈرڈ کے علاقے ٹیٹوان اور چیمبری میں واقع ڈاکخانوں میں معمول کے مطابق کام جاری رہا اور کہیں بھی رش دیکھنے میں نہیں آیا۔ ایک شہری نے بتایا کہ اس نے تقریباً ایک گھنٹے میں اپنا عمل مکمل کر لیا، تاہم عملے کی تربیت کے حوالے سے کچھ خدشات بھی ظاہر کیے گئے۔
حکام کے مطابق رجسٹریشن کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں ہزاروں درخواستیں آن لائن موصول ہوئیں، جبکہ ہزاروں افراد نے پیشگی وقت (اپائنٹمنٹ) بھی حاصل کیا۔ وزارتِ شمولیت، سوشل سیکیورٹی اور مہاجرت نے واضح کیا ہے کہ بغیر اپائنٹمنٹ کسی کو بھی سروس فراہم نہیں کی جائے گی۔
یہ رجسٹریشن عمل ملک بھر میں سینکڑوں ڈاکخانوں، سوشل سیکیورٹی دفاتر اور چند مخصوص امیگریشن دفاتر میں جاری ہے، جس کا مقصد تارکینِ وطن کو قانونی دائرے میں لا کر انہیں روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔