پاکستان فورم اسپین کے زیر اہتمام سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کے ساتھ خصوصی نشست
بارسلونا(دوست نیوز)پاکستان فورم اسپین کے زیر اہتمام پاکستان سے گلوبل صمود فلوٹیلا کی لانچنگ تقریب میں بطور مہمان شرکت کرنے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سے پنجاب شینواری ریسٹورنٹ پر ایک نشست ہوئی،جس کی صدارت صدر پاکستان فورم اسپین سید ذوالقرنین شاہ نے کی،پاکستانی کمیونٹی کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی

تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہوا جس کی سعادت شوکت اویسی اور قدیراے خان نے حاصل کی جبکہ نظامت کے فرائض راجہ شفیق الرحمن نے سرانجام دئیے

راجہ شفیق الرحمن نے اپنے ابتدائیہ میں کہا سید ذوالقرنین شاہ نے ہمیشہ کی طرح ایک خوبصورت تقریب کا انعقاد کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ کبھی بھی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس سے لوگوں کے چہروں پر خوشی آ سکے۔

شوکت اویسی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہم نے مشتاق احمد خان کومختلف مواقع پر دیکھا تھا، کبھی سمندر کی تیز لہروں میں اور کبھی طوفان جیسے حالات میں۔ اس وقت بھی دل میں یہی خیال تھا کہ کبھی نہ کبھی ملاقات ضرور ہوگی۔ ان شاء اللہ، اور آج یہ خواہش پوری ہوگئی ہے

ہم یہی چاہیں گے کہ انسانیت کے لیے جو ان کی کوششیں ہیں، وہ جاری رہیں۔دیکھیے، انسانیت کے راستے میں جو مشکلات آتی ہیں، وہ نئی بات نہیں۔ انہیں گرفتار بھی کیا گیا، جیل میں بھی رکھا گیا، لیکن اس کے باوجود ان کے حوصلے کم نہیں ہوئے۔ ایسے لوگ ہی دراصل معاشرے کے لیے امید کی کرن ہوتے ہیں۔

سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا مشرقِ وسطیٰ میں فلسطین پہلے ہی ایک اہم اور حساس مسئلہ تھا، لیکن حالیہ حالات نے اسے عالمی سیاست، معیشت اور سفارت کاری کا مرکزی محور بنا دیا ہے۔ آج یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ فلسطین صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک بنیادی اور جڑ (روٹ کاز) مسئلہ ہے۔ جب تک اس مسئلے کو انصاف اور عدل کی بنیاد پر حل نہیں کیا جاتا، نہ پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے، نہ معیشت مستحکم ہو سکتی ہے اور نہ ہی عالمی سفارت کاری کامیاب ہو سکتی ہے۔
خصوصاً طوفان الاقصیٰ کے بعد، اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک، فلسطین ایک بار پھر دنیا کے سامنے ایک مرکزی مسئلے کے طور پر ابھرا ہے۔ ریاستوں، عالمی اداروں اور عالمی عوامی رائے کے سامنے یہ حقیقت پہلے سے زیادہ واضح ہو گئی ہے کہ اس مسئلے کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس صورتحال کو صحیح طور پر سمجھیں اور یہ جائزہ لیں کہ اس حوالے سے ہمارا کیا کردار بنتا ہے۔ جو کچھ بھی ہمارے بس میں ہے، اس کے مطابق کوشش کرنا بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے۔

بحیثیت مسلمان، فلسطین کے ساتھ ہمارا تعلق صرف سیاسی نہیں بلکہ دینی اور روحانی بھی ہے۔ فلسطین کو ارضُ الانبیاء کہا جاتا ہے، یعنی وہ سرزمین جہاں بے شمار انبیائے کرام تشریف لائے۔ ایک روایت کے مطابق تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے بڑی تعداد کا تعلق اسی خطے سے رہا ہے، جس سے اس زمین کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔اسی لیے فلسطین کا مسئلہ صرف جغرافیہ یا سیاست تک محدود نہیں بلکہ یہ انصاف، انسانیت اور تاریخ کا ایک اہم امتحان بھی ہے۔
صدر مجلس سید ذوالقر نین شاہ نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا ہر جگہ جہاں مظلومیت ہوتی ہے، وہاں انسان کو حق اور انصاف کی آواز اٹھانی چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم یا فرد پر ظلم ہوا ہے، تو وہاں ایک ایسی سوچ بھی پیدا ہوئی ہے جو مظلوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔

آپ نے جو بات کی ہے کہ فلسطین جانے والوں سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ وہاں کے ساتھ ساتھ اپنے ملک میں موجود مظلوموں کو بھی یاد رکھیں، یہ ایک اہم نکتہ ہے۔ کیونکہ انصاف کا دائرہ کسی ایک خطے یا ایک مسئلے تک محدود نہیں ہوتا۔ اگر کہیں فلسطین میں تکلیف ہے تو کہیں اور بھی لوگ ناانصافی اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ ظلم جہاں بھی ہو، اس کے خلاف آواز اٹھانا ہی انسانیت کا تقاضا ہے۔ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو مختلف حالات میں قید، بے انصافی یا محرومی کا شکار ہیں، اور ان کے لیے بھی توجہ اور آواز کی ضرورت ہوتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہر مظلوم کے لیے ہمدردی اور ہر ناانصافی کے خلاف موقف رکھنا ہی ایک متوازن اور انسانی رویہ ہے۔انہوں نے آج کی نشست میں شرکت کرنے پر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔