“ہمیں ہتھکڑیوں میں زمین پر سونے پر مجبور کیا گیا”: ایبیزا کی سُمود فلوٹیلا کی رکن مارتا مالاچ کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کی روداد

Screenshot

Screenshot

ایبیزا سے تعلق رکھنے والی کارکن مارتا مالاچ نے پہلی بار عوامی سطح پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے کی کوشش کے دوران اسرائیلی فوج نے انہیں گرفتار کیا اور نہایت سخت اور تشدد آمیز سلوک کیا۔

مالاچ کا کہنا تھا: “ہمیں مجبور کیا گیا کہ ہم زمین پر ایک دوسرے کے اوپر سوتے رہیں، جبکہ ہمارے ہاتھ اور پاؤں ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔”

انہوں نے بتایا کہ وہ خود کو نسبتاً خوش قسمت سمجھتی ہیں کیونکہ وہ اس کشتی میں تھیں جسے وہ “اچھی کشتی” کہتے تھے، جہاں تشدد نسبتاً کم تھا، جبکہ دوسری کشتی کو “بری کشتی” کہا جاتا تھا جہاں زیادہ سخت سلوک کیا گیا۔

ان کے مطابق چار دن تک انہیں ہاتھ پاؤں کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ قید خانوں کی حالت انتہائی خراب تھی جہاں چھ افراد کی گنجائش والے کمروں میں بیس افراد کو رکھا گیا۔ بنیادی ضروریات تک میسر نہیں تھیں، حتیٰ کہ ٹوائلٹ پیپر اور خواتین کے لیے ضروری اشیاء بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

مالاچ نے کہا کہ یہ سب کچھ انہیں خوفزدہ کرنے کے لیے کیا گیا تاکہ وہ آئندہ ایسی مہم میں حصہ نہ لیں، لیکن ان کے بقول: “میں یہ مشن دوبارہ بھی کروں گی، اور میرے بہت سے ساتھی بھی ایسا ہی کریں گے۔”

انہوں نے الزام لگایا کہ جیل میں انہیں دھمکیوں کے تحت کچھ دستاویزات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔

اپنے بدترین تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ تھا جب ان کا سامنا ان خواتین سے ہوا جو دوسری کشتی سے لائی گئی تھیں، جن پر زیادہ شدید تشدد کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قیدیوں کو نہ مناسب کھانا دیا جاتا تھا اور نہ پانی۔ “ہمیں صرف روٹی اور تھوڑا سا پانی دیا جاتا تھا، وہ بھی اوپر سے پھینک کر، جبکہ ہم پر ہتھیار تانے جاتے تھے۔”

مالاچ کے مطابق ایک موقع پر تقریباً 26 مربع میٹر کے کمرے میں 50 سے 70 افراد کو رکھا گیا۔ قیدیوں کو کپڑے بھی کم دیے جاتے تھے تاکہ وہ سردی محسوس کریں اور سو نہ سکیں۔ ایک حد مقرر کی گئی تھی جسے عبور کرنے پر گولی مارنے کی دھمکی دی جاتی تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک شخص کو گولی مار کر زخمی بھی کیا گیا تاکہ دوسروں کو ڈرایا جا سکے۔

آخر میں مالاچ نے کہا کہ فلسطین میں ہونے والے واقعات صرف انسانی حقوق ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہیں، اور اس مسئلے پر عالمی توجہ دوبارہ مبذول کرانا ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کا مطلب تمام اسرائیلی عوام سے نفرت نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مخصوص نظریات کے خلاف ہونا چاہیے۔

مزید برآں، انہوں نے انکشاف کیا کہ اس مہم کے دوران بعض شرکاء کی جانب سے جنسی تشدد کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جو انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے