بدعنوانی کی تحقیقات میں اضافہ: اسپین کے وزیراعظم سانچیز کے لیے راستہ تنگ ہوتا جا رہا ہے
Screenshot
آٹھ سال پہلے ایک بدعنوانی میں گھری دائیں بازو کی حکومت کو ہٹا کر سیاست کو صاف کرنے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آنے والے اسپین کے سوشلسٹ وزیراعظم پیدرو سانچیز اب خود مشکل میں گھر گئے ہیں، کیونکہ ان کی جماعت اور خاندان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات بڑھتے جا رہے ہیں۔
بیرونِ ملک لبرل حلقے انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے اور غزہ میں مظالم کی مذمت کرنے پر سراہتے ہیں، لیکن ملک کے اندر ان کی مقبولیت کم ہو رہی ہے اور اتحادی بھی مختلف مقدمات پر تنقید کر رہے ہیں جو عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
اب تک کسی بھی کیس میں خود سانچیز پر فردِ جرم عائد نہیں ہوئی، اور وہ ان الزامات کو اپنے خلاف ایک منظم مہم قرار دیتے ہیں۔
اسپین میں طویل عرصے سے یہ روایت رہی ہے کہ اقتدار میں آنے والی بڑی جماعتیں اپنے اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھاتی ہیں، ایک ہسپانوی وکیل میریئم گونزالیز کے مطابق۔
اپوزیشن لیڈر البرتو فیخو نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ سانچیز کے گرد اتنے مقدمات ہیں کہ جب پولیس نے سوشلسٹ پارٹی کے دفتر کی تلاشی لی تو لوگوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ یہ کس کیس کے سلسلے میں ہے۔
سانچیز نے کہا کہ ان کی جماعت تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔ سانچیز کے قریبی ساتھیوں، جن میں پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار اور سابق وزیرِ ٹرانسپورٹ شامل ہیں، پر عوامی منصوبوں، تیل و گیس کے معاہدوں اور کورونا کے دوران ماسک کی خریداری میں کمیشن لینے کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
گزشتہ ہفتے اسپین کی ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم خوسے لوئس رودریگیز زاپاتیرو کے خلاف بھی تحقیقات شروع کیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک نیٹ ورک کے ذریعے نجی کمپنیوں کے لیے سرکاری اداروں پر اثر انداز ہو کر فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
یہ معاملہ سانچیز کے لیے خاص طور پر نقصان دہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ زاپاتیرو کو ان کا سیاسی استاد مانا جاتا ہے۔
کچھ مقدمات، جیسے سانچیز کے بھائی دیود اور ان کی اہلیہ بیگونا گومیز کے خلاف اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال کے الزامات، ایک اینٹی کرپشن گروپ کی شکایات پر شروع ہوئے، جس کے رہنما کے انتہائی دائیں بازو سے روابط بتائے جاتے ہیں۔
سانچیز نے ان الزامات کو سیاسی سازش قرار دیا، جبکہ ان کے حامی بھی اسے حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش سمجھتے ہیں۔ ان کے بھائی اور اہلیہ دونوں نے الزامات کی تردید کی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور سابق وزیرِ انصاف خوان فرنیندو لوپیز نے کہا کہ کچھ الزامات نہایت قابلِ مذمت ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی براہِ راست سانچیز کو ملوث نہیں کرتا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومت میں کچھ تقرریاں ایسی تھیں جو اپنی ذمہ داریوں کے قابل نہیں تھیں۔
حالیہ سروے کے مطابق سانچیز کی جماعت سوشلسٹ پارٹی کو تقریباً 28 فیصد حمایت حاصل ہے، جبکہ اپوزیشن پاپولر پارٹی 31 فیصد کے ساتھ آگے ہے، اور انتہائی دائیں بازو کی ووکس پارٹی کو تقریباً 18 فیصد حمایت حاصل ہے۔
حکومت نے 2027 سے پہلے انتخابات کرانے کا امکان رد کر دیا ہے۔ اپوزیشن اگر حکومت گرانا چاہتی ہے تو اسے عدم اعتماد کی تحریک لانی ہوگی، لیکن چھوٹی جماعتیں ووکس کی ممکنہ حمایت سے بننے والی حکومت کے خوف سے اس کی حمایت سے گریزاں ہیں۔
کاتالان اور باسک جماعتوں نے بھی عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت سے انکار کیا ہے، حالانکہ وہ موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں۔
ایک رہنما کے مطابق، “عوام شدید مایوسی کا شکار ہیں، اور حکومت صرف اس لیے قائم ہے کیونکہ متبادل اس سے بھی بدتر سمجھا جا رہا ہے۔”