شہری تنظیموں کی مخالفت کے باوجود،بارسلونا کے مرکزی علاقہ سیوتات ویلا کے نئےمنصوبے کی حتمی منظوری
Screenshot
بارسلونا کی میونسپل کونسل نے جمعہ کے روز سیوتات ویلا (Ciutat Vella) کے نئے “پلان آف یوزز” کی حتمی منظوری دے دی، حالانکہ مقامی شہری تنظیموں نے اس کی شدید مخالفت کی۔ یہ نیا ضابطہ طے کرتا ہے کہ آئندہ اس علاقے میں کون سے کاروبار کھل سکیں گے اور کون سے نہیں۔
یہ منصوبہ سوشلسٹ پارٹی (PSC) اور جونتس کے ووٹوں سے منظور ہوا جبکہ پاپولر پارٹی نے ووٹنگ میں حصہ لینے کے بجائے غیر جانبداری اختیار کی۔ دوسری جانب، شہری تنظیمیں، خصوصاً ایف اے وی بی (FAVB)، اس منصوبے کے سخت خلاف ہیں۔
حکومت کے روایتی اتحادی، بارسلونا اِن کومو (BComú) اور ای آر سی (ERC)، نے بھی میئر جاومے کولبونی پر سخت تنقید کی اور اس منصوبے کو “خراب منصوبہ” قرار دیا۔
میئر کولبونی کو جونتس کی حمایت اور پی پی کی غیر حاضری کا فائدہ اس لیے ملا کیونکہ انہوں نے دونوں جماعتوں کی کچھ تجاویز کو منصوبے میں شامل کر لیا تھا۔ جونتس کے دامیا کالویت (Damià Calvet) نے کہا کہ اس منصوبے میں زیادہ ضابطہ بندی اور نگرانی کی صلاحیت شامل ہے۔
پی پی کی سونیا دیویسا (Sonia Devesa) نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ رات تین بجے تک شراب فروخت کرنے والے مقامات کی اجازت سے شور، بدتمیزی اور سماجی مسائل پیدا ہوں گے۔
ادھر بی کومو کے جوردی رباسا (Jordi Rabassa) نے سیوتات ویلا کے کونسلر البرت باتیے (Albert Batlle) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ شہریوں کی سنتے ہیں اور نہ ہی کارکنوں کی، بلکہ زیادہ توجہ بڑے کاروباری مفادات پر دیتے ہیں۔
ای آر سی کی ایلیسیندا الامانی (Elisenda Alamany) نے اس منصوبے کو بے کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے شہر، خاص طور پر سیوتات ویلا، مزید سیاحتی دباؤ کا شکار ہوگا۔
ووکس کے لیبرتو سیندیروس (Liberto Senderos) نے بھی اس کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے کہا کہ سیوتات ویلا کا اصل مسئلہ سیاحت نہیں ہے۔
البرت باتیے نے ان تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ بارسلونا کا مرکزی ضلع ایسے کاروباروں کے لیے کھلا میدان بن جائے جو مقامی معاشرے کے لیے فائدہ مند نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے علاقے کو سیاحت کے حوالے کیا جا رہا ہے، کیونکہ حقیقت اس کے برعکس ہے