مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
Screenshot
صرف چار دن میں ڈیزل کی قیمت میں 20 فیصد اور پٹرول کی قیمت میں 16 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
بارسلونا میں قائم کاتالونیا کی پٹرول پمپ ایسوسی ایشن (Agrucaes) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات گزشتہ ہفتے کے آخر سے ایندھن کی قیمتوں پر پڑنے لگے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے صدر البرت کیمپا بادل (Albert Campabadal) کے مطابق اتوار سے قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، یعنی ہر روز تھوڑا تھوڑا اضافہ کیا جا رہا ہے، اور امکان ہے کہ قیمتیں مزید بڑھیں گی۔
اس صورتحال کے باعث ایندھن کی طلب بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ لوگ ممکنہ مزید اضافے سے پہلے اپنی گاڑیوں کے ٹینک بھروا رہے ہیں۔
اس قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بند کرنا بتایا جا رہا ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ردِعمل میں کیا گیا۔
یہ آبی گزرگاہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
تاہم البرت کیمپا بادل کے مطابق موجودہ صورتحال یوکرین جنگ کے آغاز کے وقت جیسی شدید نہیں ہے، کیونکہ اس وقت یورپ روسی توانائی پر زیادہ انحصار کرتا تھا۔
انہوں نے کہا:“اب توانائی کی فراہمی کے ذرائع زیادہ متنوع ہو چکے ہیں، اور خلیج فارس سے آنے والا تیل صرف 10 سے 20 فیصد کے درمیان ہے، اس لیے اثر پہلے کے مقابلے میں کم ہے۔”
ایسوسی ایشن کا اندازہ ہے کہ ہفتے کے آخر تک قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہونا شروع ہو جائے گی۔