Screenshot
بلباؤ: باسک خطے کے (علاقائی سربراہ) ایمانول پرادالیس نے کہا ہے کہ اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے سیوتا میں پیدا ہونے والے بحران پر بروقت اور مؤثر ردعمل نہیں دیا۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے اس بحران کو فوری طور پر حل نہ کیا تو موجودہ پارلیمانی مدت شدید خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔
پرادالیس نے انٹرویو میں کہا کہ سیوتاکی صورتحال کے حوالے سے سانچیز نے تاخیر سے کارروائی کی اور وہ اب بھی سیاسی طور پر دباؤ میں دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس میں وزیرِاعظم کی حالیہ پیشی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر سانچیز کی سیاسی تنہائی نمایاں نظر آئی۔
پرادالیس کے مطابق سانچیز میں اس بحران سے نمٹنے کے لیے قیادت اور پیشگی اقدامات کی کمی دکھائی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم نے ماضی میں وبائی مرض، شدید بارشوں اور جنگلات میں لگنے والی آگ جیسے بحرانوں کے دوران قیادت کا مظاہرہ کیا، لیکن سیوٹا کے معاملے میں صورتحال مختلف رہی۔
انہوں نے حکومت پر شفافیت، تیزی، تعاون اور اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی کمی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کے مطابق اگر سیوٹا کے بحران کو جلد حل نہ کیا گیا تو اسپین کی موجودہ حکومت کے لیے اپنی مدت پوری کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
دوسری جانب پرادالیس نے اپوزیشن جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حزبِ اختلاف نے سیوٹا کے بحران کو سیاسی تنازع میں تبدیل کرنے پر زیادہ توجہ دی ہے۔
انہوں نے یورپی یونین کے کردار کو بھی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیوٹا افریقہ میں یورپ کی سرحد ہے، اس لیے یورپ کو اس بحران میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
پرادالیس کے مطابق سیوٹا کا معاملہ ایک انسانی بحران بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ہزاروں افراد موجود ہیں، جن میں تقریباً 2,400 کم عمر افراد بھی شامل ہیں۔ ان کے بقول صورتحال کو سیاسی کشمکش کے بجائے انسانی وقار اور عملی تعاون کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
