Screenshot
سیوتا: اسپین کے شہر سیوٹا میں ایک عدالت نے تارکین وطن کو گیراج میں غیر قانونی طور پر رہائش فراہم کرنے والے دو افراد کے خلاف قید اور ملک بدری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ملزمان تارکین وطن سے گیراج میں چھپ کر رہنے کے عوض فی شخص 900 یورو تک وصول کرتے تھے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق ایک مقامی شہری کو غیر ملکی شہریوں کے حقوق کے خلاف جرم اور دھمکی دینے کے الزام میں سزا سنائی گئی۔ اسے پہلے جرم میں 9 ماہ جبکہ دھمکی دینے کے جرم میں مزید 6 ماہ قید کی سزا دی گئی ہے۔
دوسرے ملزم کا تعلق مراکش سے ہے اور وہ اسپین میں قانونی طور پر مقیم تھا۔ اسے بھی غیر ملکی شہریوں کے حقوق کے خلاف جرم میں قصوروار قرار دیا گیا، تاہم عدالت نے اس کی قید کی سزا کو 5 سال کے لیے اسپین سے ملک بدری میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ کارروائی سیوتا کے ایونیو دی لاس ریئس کاتولیکوس میں واقع ایک گیراج کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات کے بعد شروع کی گئی۔ پولیس کے مطابق گیراج کے مالکان تارکین وطن کی انتہائی کمزور صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں چھپنے کے لیے جگہ فراہم کر رہے تھے۔
تحقیقات UCRIF کے سیوٹا یونٹ اور مرکزی UCRIF نے مشترکہ طور پر ’’آپریشن سینن‘‘ کے تحت کیں۔ علاقے کے رہائشیوں نے پولیس کو گیراج میں مسلسل تارکین وطن کی موجودگی کے بارے میں اطلاع دی تھی۔
پولیس نے کارروائی کے دوران گیراج سے 8 تارکین وطن کو تلاش کیا، جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایک وقت میں وہاں تقریباً 20 افراد بھی رہ چکے تھے۔
کچھ تارکین وطن نے پولیس کو بتایا کہ وہ گیراج میں چھپ کر اس انتظار میں رہ رہے تھے کہ انہیں سیوٹا سے اسپین کے جزیرہ نما علاقے کی طرف منتقل کیا جائے۔
واقعے نے سیوتا میں تارکین وطن کی صورتحال اور ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر غیر قانونی رہائش فراہم کرنے کے مسئلے کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
